بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کمپنی کا ملازمین کو وعدہ کرنے کے بعد تنخواہ ڈبل نہ دینا


سوال

کمپنی میں ملازمین کے اصولوں میں سے 1 اصول یہ بھی طے ہے کہ عید کے 5 دنوں کی سیلری ڈبل دی جائیگی ۔ لیکن جب سیلری دینے کا وقت آئے تو 3 دن کی ڈبل دی جائے5 دن کے بجائے۔ اور یہ وجہ بتا دی جائے کہ ملازمین صحیح طرح اصولوں پر عمل نہیں کر رہے تھے تو ہم نے اصول سارے پہلے ہی لغو کر دیے تھے۔ اور ملازمین کو پہلے سے نہ بتایا ہو کہ وہ اصول لغو ہو چکے ہیں۔ اور ملازمین یہی سمجھ کر کام کررہے ہوں کے پانچ دن کی ڈبل سیلری ملے گی۔ تو یہ کرنا کیسا ہے؟

جواب

اگر کمپنی نے ملازمین کے ساتھ یہ اصول پہلے سے طے کیا ہوا تھا کہ عید کے پانچ دنوں کی اجرت/سیلری ڈبل دی جائے گی، اور ملازمین اسی طے شدہ اصول کو ملحوظ رکھتے ہوئے کام کرتے رہے، تو بعد میں  انہیں پانچ د کی ڈبل تنخواہ نہ دینا شرعاً درست نہیں۔

  1. ملازمت کا معاملہ اجارہ ہے، اور اجرت و شرائط پہلے سے متعین ہونا ضروری ہیں۔اگر پانچ دن کی ڈبل اجرت کمپنی کی باقاعدہ طے شدہ شرط تھی، تو کمپنی پر اس کی پابندی لازم ہے۔

  2. محض یہ وجہ کہ ملازمین نے کمپنی کے بعض اصولوں پر صحیح عمل نہیں کیا، پہلے سے طے شدہ اجرت کو یک طرفہ طور پر کم کرنے کے لیے کافی نہیں۔ اگر ملازمین نے واقعی کوئی خلاف ورزی کی ہے تو اس کے لیے وہی کارروائی کی جا سکتی ہے جو پہلے سے معاہدے یا کمپنی کے واضح قواعد میں مقرر ہو۔البتہ اگر مذکورہ ڈبل سیلری کوئی انعام ہو تو انعام میں کمی کرنے کو کمپنی کی گنجائش ہے۔

  3. اگر کمپنی انتظامیہ نے اصول ختم کرنے کا فیصلہ کر بھی لیا تھا، تو ملازمین کو اس کی بروقت اطلاع دینا ضروری تھا۔ چونکہ ملازمین پہلے والے اصول کے مطابق کام کرتے رہے اور انہیں پانچ دن کی ڈبل سیلری کی توقع تھی، اس لیے بعد میں خفیہ طور پر اصول ختم کرکے تین دن کی اجرت دینا حق تلفی کے زمرے میں آئے گا۔

قرآن کریم میں ہے:

"يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟أَوْفُوا۟بِٱلْعُقُودِ." (سورة المائدة: 1)

ترجمہ: "اے ایمان والو! عہدوں کو پورا کرو۔"

(بیان القران، ج: 2، ص: 21، ط: مکتبہ غزنوی کراچی)

صحیح بخاری  میں ہے:

"عن ‌أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «‌آية ‌المنافق ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان»."

(كتاب الإيمان، باب علامة المنافق، ج: 1، ص: 16، ط: دار طوق النجاة بيروت)

ترجمہ: "حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ منافق کی تین علامتیں ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے اس کے خلاف کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جاۓخیانت کرے۔"

(نصر الباری، باب علامات المنافق، ج: 1، ص: 285، ط: مکتبۃ الشیخ کراچی)

فتاویٰ عالمگیریہ میں ہے:

"وأما كون العاقد طائعا مختارا عامدا فليس بشرط لانعقاد هذا العقد ولا لنفاذه عندنا لكنه من شرائط الصحة."

(كتاب الإجارة، الباب الأول تفسير الإجارة وركنها وألفاظها وشرائطها، ج: 4، ص: 410، ط: دار الفكر بيروت)

فقط واللہ اعلم ۔


فتویٰ نمبر : 144803101556

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں