بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الثانی 1448ھ 16 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ٹریفک حادثے میں موت پر دیت، کفارہ اور ورثاء کے ساتھ مصالحت کا حکم


سوال

میرے چچا رات کے وقت موٹر سائیکل پر گھر لوٹ رہے تھے کہ ایک ٹرک نے پیچھے سے ٹکر ماری اور وہ موقع ہی پر جاں بحق ہو گئے۔ ٹرک والا کہتا ہے کہ میں نے جان بوجھ کر نہیں مارا، مجھ سے غلطی ہوئی ہے۔

اب پوچھنا یہ ہے کہ:

1۔اس صورت میں شریعت کی رُو سے ٹرک والے پر کیا لازم آتا ہے، اور ہم ورثاء کیا مطالبہ کر سکتے ہیں؟

2۔اگر ہم آپس میں بیٹھ کر کوئی رقم طے کر لیں تو کیا یہ درست ہو گا؟

جواب

1۔ صورتِ مسئولہ میں اگر حادثہ ٹرک والے کی غلطی سے ہوا ہے تو یہ قتلِ خطا ہے، اس میں قصاص نہیں لیا جاتا، بلکہ ٹرک والے پر کفارے کے ساٹھ مسلسل روزے لازم ہوں گے، اور دیت اس کے عاقلہ کے ذمے ہو گی، جو تین سال میں ادا کی جائے گی۔ عاقلہ سے مراد وہ جماعت، تنظیم یا برادری ہے جس کے ساتھ اس کا باہمی تعاون اور تناصر کا تعلق ہو۔ ایک مقتول کی دیت کی مقدار ایک ہزار دینار یعنی تین سو پچھتر تولہ سونا، یا دس ہزار درہم یعنی چھبیس سو پچیس تولہ چاندی، یا اس کی موجودہ قیمت ہے، اور یہ رقم مقتول کے ورثاء میں میراث کے حصوں کے مطابق تقسیم ہو گی۔

2۔ ورثاء اور ڈرائیور کا باہمی رضامندی سے کسی متعین رقم پر صلح کر لینا شرعاً درست ہے، اور قتلِ خطا میں یہ صلح دیت کی مقررہ مقدار پر یا اس سے کم پر بھی ہو سکتی ہے، اس سے زیادہ پر نہیں۔ اسی طرح ورثاء کو یہ اختیار بھی حاصل ہے کہ وہ اپنا حق معاف کر دیں، البتہ کفارے کے روزے معافی سے ساقط نہیں ہوتے۔

نیز صلح اور معافی کا یہ اختیار صرف ان ورثاء کو حاصل ہے جو عاقل بالغ ہوں، اور ہر ایک کا اختیار اپنے حصے تک محدود ہے۔ اور جو ورثاء نابالغ ہوں، ان کے ولی کو ان کا حصہ وصول کرنے کا اختیار تو ہے، معاف کرنے یا دیت سے کم پر صلح کرنے کا اختیار نہیں؛ ایسا کرنے سے نابالغ کا حق ساقط نہ ہو گا، بلکہ بالغ ہونے کے بعد وہ اپنے پورے حصے کا مطالبہ کر سکے گا۔

قرآنِ کریم میں ہے:

"وما كان لمؤمن أن يقتل مؤمنا إلا خطأ، ومن قتل مؤمنا خطأ فتحرير رقبة مؤمنة ودية مسلمة إلى أهله إلا أن يصدقوا"

(سورۃ النساء: 92)

المبسوط للسرخسی میں ہے:
"وعفو الأب والوصي عن قصاصٍ واجبٍ للصغير باطلٌ؛ لأنه فُوِّض إليهما استيفاءُ حقه شرعاً لا إسقاطُه، وإسقاطُه القصاصَ كإسقاطِه ديناً واجباً للصبي."

(كتاب الديات، باب العفو عن القصاص، ج:26، ص:161)

رد المحتار میں ہے:
"لا يجوز أن يهب شيئاً من مال طفله ولو بعوض؛ لأنها تبرع ابتداءً."

(كتاب الهبة، ج:5، ص:696، ط: سعيد)

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"وإذا سار الرجل على دابة أي الدواب كانت في طريق المسلمين فوطئت إنسانا بيد أو رجل وهي تسير فقتلته فديته على عاقلة الراكب، والأصل في هذا أن السير على الدابة في طريق المسلمين مباح مقيد بشرط السلامة بمنزلة المشي... فإذا لم يسلم كان جانيا وهذه جناية منه بطريق المباشرة؛ لأن القتل إنما حصل بفعله حين كان هو على الدابة التي وطئت فتجب عليه الكفارة وعلى عاقلته الدية."

(باب جنایۃ الراکب، ج:26، ص:188، ط: دار المعرفۃ)

النہایۃ فی شرح الہدایۃ میں ہے:

"وإن كان صاحب الدابة راكبا على الدابة والدابة تسير إن وطئت بيدها أو رجلها يضمن... لأن صاحب الدابة مباشر للإتلاف؛ لأن ثقله وثقل الدابة اتصل بالمتلف فكأنهما وطئاه جميعا، ولهذا يجب على الراكب الكفارة إذا وطئت الدابة بيدها أو رجلها ويحرم عن الميراث والمباشر ضامن سواء كان متعديا أو لم يكن."

(کتاب الدیات، ضمان الراکب لما وطئت الدابۃ، ج:24، ص:283، ط: مرکز الدراسات الاسلامیۃ)

وفیہ ایضاً:

"لأن الراكب مباشر فيه، والدليل على أنه مباشر من حيث حكم الشرع أن من سار على دابته في ملكه فأوطأت إنسانا بيد أو رجل فقتلته فعليه الدية والكفارة؛ لأن الراكب مباشر للقتل فيما أوطأت دابته."

(کتاب الدیات، الراکب مباشر، ج:24، ص:288، ط: مرکز الدراسات الاسلامیۃ)

الفتاوی الہندیۃ میں ہے:

"جوز الصلح عن جناية العمد والخطأ في النفس وما دونها، إلا أنه لو صالح في العمد على أكثر من الدية جاز... وفي الخطأ لو صالح على أكثر من الدية لا يجوز، كذا في الاختيار شرح المختار."

(کتاب الصلح، الباب الثاني عشر في الصلح عن الدماء والجراحات، ج:4، ص:260، ط: رشیدیۃ)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144803101499

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں