
میرے بارے میں میری دادی کا کہنا ہے کہ جب آپ چھوٹے تھے، تقریباً ایک ماہ کے تھے، تو ایک رات آپ رو رہے تھے۔ میں نے آپ کو اٹھایا اور آپ کو آرام دیا، جس کی وجہ سے آپ سو گئے۔ لیکن مجھے یہ یاد نہیں کہ میں نے اس رات آپ کو دودھ پلایا تھا یا نہیں۔اب میرا نکاح چچا کی بیٹی کے ساتھ ہوا ہے، جبکہ اگر دادی نے مجھے دودھ پلایا ہو تو میں اس صورت میں اس لڑکی کا رضاعی چچا بنتا ہوں۔
میری دادی کے اس دعوے کا شرعی اعتبار سے کیا حکم ہے، جبکہ دعوے میں بھی شک ہے اور ان کے پاس کوئی گواہ بھی موجود نہیں ہے؟
نیز میرا اپنی مذکورہ چچاکی بیٹی کے ساتھ نکاح کا کیا حکم ہے؟
صورت مسئولہ میں سائل کے بیان کے مطابق کہ اس کی دادی کو یاد نہیں ہے کہ مذکورہ رات کو اس نے سائل کو دودھ پلایا ہو اور اس دعوے پر کوئی گواہ بھی موجود نہیں ہے تو اس کا حکم یہ ہے کہ محض شک کی بنیاد پر حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی ہے۔نیز اسی بنیاد پر سائل کا اپنے چچا کی بیٹی کے ساتھ نکاح جائز ہے۔
البتہ اگر سائل کی دادی کو یقین یا ظن غالب ہو کہ اس نے سائل کو دودھ پلایا ہے، تو اس صورت میں نکاح نہ کرنا بہتر ہوگا۔
فتاوی شامی میں ہے:
" باب الرضاع ( هو ) لغة بفتح وكسر: مص الثدي. وشرعا ( مص من ثدي آدمية ) ولو بكرا أو ميتة أو آيسة، وألحق بالمص الوجور والسعوط ( في وقت مخصوص ) هو ( حولان ونصف عنده وحولان ) فقط ( عندهما وهو الأصح ) فتح وبه يفتى كما في تصحيح القدوري عن العون، لكن في الجوهرة أنه في الحولين ونصف، ولو بعد الفطام محرم وعليه الفتوى... ( ويثبت به ) ولو بين الحربيين بزازية ( وإن قل ) إن علم وصوله لجوفه من فمه أو أنفه لا غير، فلو التقم الحلمة ولم يدر أدخل اللبن في حلقه أم لا لم يحرم لأن في المانع شكًّا، ولوالجية.
( قوله: فلو التقم إلخ ) تفريع على التقييد بقوله إن علم. وفي القنية: امرأة كانت تعطي ثديها صبية واشتهر ذلك بينهم ثم تقول لم يكن في ثديي لبن حين ألقمتها ثدي ولم يعلم ذلك إلا من جهتها جاز لابنها أن يتزوج بهذه الصبية. اهـ. ط. وفي الفتح: لو أدخلت الحلمة في في الصبي وشكت في الارتضاع لا تثبت الحرمة بالشك."
( كتاب النكاح، باب الرضاع، ج: 3، ص: 209- 212، ط: سعید )
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144803101454
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن