بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 ربیع الثانی 1448ھ 21 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مقتول کے ورثاء کا نابالغ بچہ کے حصہ سے کم پر صلح کرنا جائز نہیں


سوال

ایک شخص کا قتل ہوا، مقتول کے ورثاء نے بیس لاکھ روپے میں صلح کرلی، مقتول کے ورثاء میں ایک نابالغ بچہ بھی ہے، کیا شرعاً یہ صلح درست ہے؟ اگر درست ہے تو ورثاء کو کتنا حصہ ملے گا مذکورہ رقم میں سے؟ مقتول کے ورثاء میں والدین، بیوہ اور ایک نابالغ بچہ بھی ہے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں دیت کی  اصل مقدار میں سے جو نابالغ بچہ کا حصہ بنتا ہے، اس سے کم پر صلح کرنا درست نہیں ہے، کیوں کہ ایسی صورت میں نابالغ بچہ کا نقصان ہوگا، اور مذکورہ بیس لاکھ کی رقم بھی بچے کے حصے سے کم ہے، کیوں کہ مذکورہ ورثاء کی صورت میں بچہ کو فیصد کے اعتبار سے کل دیت کے 54.166 فیصد ملے گا، اور اگر نابالغ بچہ کے حصہ کے برابر رقم پر صلح کرلی جائے تو صلح درست ہوگی اور ایسی صورت میں بقیہ ورثاء کو کچھ بھی نہیں ملے گا۔

دیت کی مقدار اگر  سونے کی صورت میں ادا کی جائے تو اس کی مقدار ایک ہزار (1000) دینار یعنی 375 تولہ سونا جس کا اندازہ جدید پیمانے سے 4 کلو 374 گرام سونا یا اس کی قیمت بنتی ہے،  اور اگر چاندی کے اعتبار سے ادا کرنا ہو تو دس ہزار (10000) درہم یعنی 2625 تولہ چاندی جس کا اندازہ جدید پیمانے سے 30 کلو 618 گرام چاندی یا اس کی قیمت بنتی ہے۔  

فتاوی شامی میں ہے:

(ولأبي المعتوه القود) تشفيا للصدر (و) إذا ملكه ملك (الصلح) بالأولى (لا العفو) مجانا (بقطع يده) أي في يد المعتوه (وقتل قريبه) ؛ لأنه إبطال حقه ولا يملكه (وتقيد صلحه بقدر الدية أو أكثر منه، وإن وقع بأقل منه لم يصح) الصلح (وتجب الدية كاملة) ؛ لأنه أنظر للمعتوه ۔۔۔۔ (والصبي كالمعتوه) فيما ذكر

(قوله وتقيد صلحه) أي صلح الأب (قوله وإن وقع بأقل منه لم يصح الصلح) اعترضه الأتقاني بأن محمدا لم يقيده بقدر الدية بل أطلق. وفي مختصر الكرخي: وإذا وجب لرجل على رجل قصاص في نفس أو فيما دونها فصالحه على مال جاز قليلا كان أو كثيرا. ونقل الشلبي عن قارئ الهداية أن هذا الاعتراض وهم. قال أبو السعود: كيف يكون وهما مع ما صرح به الكرخي اهـ.أقول: عبر في النهاية وغيرها من شروح الهداية بدل قوله لم يصح الصلح بقوله لم يجز الحط، وإن قل يجب كمال الدية اهـ. فأفاد أن الصلح صحيح دون الحط ولذا وجب كمال الدية وإلا كان الواجب القود، وبه يحصل التوفيق بين كلامهم، فما صرح به الكرخي وأفاده كلام الإمام محمد من صحة الصلح المراد به صحته بإلزام تمام الدية، وهو مراد من قال لم يجز الحط، وقول الشارح هنا تبعا للمنح لم يصح الصلح مراده لم يلزم بذلك القدر الناقص، ولو عبر بما قاله شراح الهداية لكان أنسب، وبه ظهر أن اعتراض الإمام الأتقاني في غير محله، فاغتنم هذا التحرير (قوله؛ لأنه أنظر للمعتوه) الواقع في كلامهم ذكر هذا التعليل عند قوله ملك الصلح كما قدمناه، والظاهر التعليل هنا بأن فيه إبطال حقه نظير ما قبله (قوله والصلح) ينبغي على قياس ما تقدم في الأب أن يتقيد صلحه بقدر الدية أو أكثر ط: أي فلا يجوز الحط بالأولى 

[تتمة] أفتى الحانوتي بصحة صلح وصي الصغير على أقل من قدر الدية إذا كان القاتل منكرا ولم يقدر الوصي على إثبات القتل قياسا على المال لما في العمادية من أن الوصي إذا صالح عن حق الميت أو عن حق الصغير على رجل، فإن كان مقرا بالمال أو عليه بينة أو قضي عليه به لا يجوز الصلح على أقل من الحق، وإن لم يكن كذلك يجوز اهـ.

(كتاب الجنايات، فصل فيما يوجب القود وما لا يوجبه، ج:538، 539، ط:سعید)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144803101437

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں