
آج کل ہمارے ہاں اکثر لوگ چھپا ہوا قرآنِ مجید ساتھ رکھنے کے بجائے موبائل ایپ میں تلاوت کرتے ہیں؛ بس اور ٹرین کے سفر میں، دفتر میں کام کے وقفے میں، اور کھیت یا کارخانے سے واپسی پر بھی۔ اکثر اوقات وضو نہیں ہوتا، اور تلاوت کے دوران انگلی سے اسکرین پر صفحہ بھی بدلنا پڑتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ بغیر وضو کے موبائل میں دیکھ کر تلاوت کرنا درست ہے یا نہیں؟ اور اس حالت میں موبائل کو ہاتھ لگانا اور اسکرین چھونا کیسا ہے؟
واضح رہے کہ بے وضو شخص کے لیے زبانی تلاوت کرنا اور قرآنِ مجید کو دیکھ کر بغیر ہاتھ لگائے پڑھنا جائز ہے، اور اسی اصول پر موبائل ایپ میں دیکھ کر تلاوت کرنا بھی جائز ہے؛ چنانچہ سفر میں، دفتر میں یا کہیں بھی وضو کے بغیر موبائل میں تلاوت کی جا سکتی ہے۔
البتہ جس وقت اسکرین پر قرآنِ کریم کھلا ہوا ہو، اس وقت اسکرین کو چھونا شرعاً قرآن کو چھونے کے حکم میں ہے، اس لیے بے وضو اسکرین کو ہاتھ لگانا اور انگلی سے صفحہ بدلنے کی اجازت نہیں؛ ہاں موبائل کو کناروں اور دیگر اطراف سے پکڑنے اور اٹھانے میں کوئی حرج نہیں، اسی طرح کسی لکڑی یا قلم وغیرہ سے صفحہ بدلنے کی گنجائش ہے، کیوں کہ اس پر "مس" کا اطلاق نہیں ہوتا۔
بہتر یہی ہے کہ تلاوت کے لیے وضو کا اہتمام کیا جائے، تاکہ کلامِ الٰہی کی تعظیم بھی ادا ہو اور اسکرین چھونے میں بھی کوئی رکاوٹ نہ رہے۔
خلاصۃ الفتاویٰ میں ہے:
"ولا يكره للمحدث قراءة القرآن عن ظهر القلب."
(كتاب الطهارة، الفصل الحادي عشر، ج: 1، ص: 104، ط: مكتبه رشيدية)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(و) يحرم (به) أي بالأكبر (وبالأصغر) مس مصحف: أي ما فيه آية كدرهم وجدار ... (إلا بغلاف متجاف) غير مشرز أو بصرة به يفتى، وحل قلبه بعود. (قوله: أي ما فيه آية إلخ) أي المراد مطلق ما كتب فيه قرآن مجازاً، من إطلاق اسم الكل على الجزء، أو من باب الإطلاق والتقييد ... (قوله: وحل قلبه بعود) أي تقليب أوراق المصحف بعود ونحوه لعدم صدق المس عليه."
(كتاب الطهارة، مطلب يطلق الدعاء على ما يشمل الثناء، ج:1، ص:173، ط: ايم سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144803101433
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن