
ہماری محلے کی مسجد میں مغرب اور عشاء کے درمیان اور نماز کے بعد بہت سے لوگ بیٹھ کر گپ شپ کرتے ہیں؛ کاروبار، زمین جائیداد، سیاست اور محلے کے معاملات پر باتیں ہوتی رہتی ہیں، بعض لوگ مسجد ہی میں بیٹھ کر موبائل پر بات کرتے ہیں۔ اس دوران کچھ لوگ نماز اور تلاوت میں مشغول ہوتے ہیں۔ اس کا شرعی حکم بتا دیں۔
واضح رہے کہ مسجد اللہ تعالیٰ کا گھر اور عبادت کی جگہ ہے، دنیاوی امور کے لیے مسجد نہیں بنائی گئی؛ اس کا ادب و احترام ہر مسلمان پر لازم ہے۔ لہٰذا دنیاوی باتوں ہی کی غرض سے مسجد میں جمع ہونا اور اسی مقصد کے لیے وہاں بیٹھنا جائز نہیں، فقہاء نے تصریح کے مطابق بالاتفاق اس کی اجازت نہیں۔
البتہ اگر کوئی شخص نماز و دیگرعبادت کی غرض سے مسجد آیا ہو اور اس دوران ضرورت کے بقدر کوئی جائز اور مباح دنیاوی بات کرنی پڑ جائے تو آہستہ آواز میں کرنے کی گنجائش ہے، بشرطیکہ اس گفتگو سے نماز، تلاوت یا ذکر و اذکار میں مشغول لوگوں کی عبادت میں خلل نہ آئے۔ تاہم بہتر اور افضل یہی ہے کہ مسجد میں دنیاوی گفتگو سے بالکل اجتناب کیا جائے اور اس وقت کو ذکر و تلاوت میں لگایا جائے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مسجد میں بیٹھ کر کاروبار، جائیداد اور سیاست کی محفلیں جمانا اور اسی غرض سے وہاں بیٹھنا درست نہیں، اور نمازیوں کی عبادت میں خلل ڈالنے والی بلند آواز گفتگو یا موبائل پر بات کرنا تو بدرجۂ اولیٰ ناجائز ہے۔ اہلِ محلہ کو چاہیے کہ نرمی اور حکمت کے ساتھ ایک دوسرے کو اس پر متوجہ کریں۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(قوله بأن يجلس لأجله) فإنه حينئذ لا يباح بالاتفاق؛ لأن المسجد ما بني لأمور الدنيا. وفي صلاة الجلابي: الكلام المباح من حديث الدنيا يجوز في المساجد، وإن كان الأولى أن يشتغل بذكر الله تعالى، كذا في التمرتاشي، هندية."
(كتاب الصلاة، باب الإمامة، ج:1، ص:662، ط: سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144803101337
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن