بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الاول 1448ھ 13 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قسطوں پر خریدی ہوئی چیز نقد فروخت کرنا جائز ہے


سوال

 آپ کسی حقیقی سامانِ تجارت (موبائل، سولر، موٹر سائیکل وغیرہ) کے مالک بنیں: آپ دکاندار سے سامان اپنے لیے واقعی خریدیں اور قبضہ کریں۔ پھر اسے ضرورت مند شخص کو ایک متعین قسطوں کی قیمت پر فروخت کریں۔ سامان اس شخص کی ملکیت اور قبضے میں دے دیں۔ اس کے بعد وہ شخص، بغیر پہلے سے طے شدہ واپسی کے معاہدے کے، اپنی ملکیت کا سامان کسی دوسرے خریدار کو نقد فروخت کر سکتا ہے؟ اسے جو نقد رقم ملے وہ اپنی ضرورت میں استعمال کرے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں قسطوں پر خریدنے والے شخص کے لیےقسطوں پر خریدی ہوئی چیز کو آگے فروخت کرنا جائز ہے، اور اس سے حاصل ہونے والی نقد رقم کو اپنی ضرورت میں استعمال کرسکتا ہے۔ 

تاہم اگر قسطوں پر خریدنے والے مذکورہ ضرورت مند شخص نے اگر کسی سے قرض مانگا ہو، اور اس نے قرض دینے سے اعراض کرتے ہوئے اپنی کوئی چیز قسطوں پر فروخت کردی ہو اور ادھار کی وجہ سے اس کی قیمت زیادہ رکھی ہو، تاکہ خریدنے والا آگے اس کو فروخت کرکے اپنی ضرورت کی رقم حاصل کرلے تو ایسا کرنا غیر پسندیدہ ہوگا۔

فتح القدیر میں ہے:

"ومن صور العينة ‌أن ‌يقرضه ‌مثلا ‌خمسة ‌عشر ‌ثم ‌يبيعه ثوبا يساوي عشرة بخمسة عشر ويأخذ الخمسة عشر القرض منه فلم يخرج منه إلا عشرة وثبت له خمسة عشر.ومنها أن يبيع متاعه بألفين من المستقرض إلى أجل ثم يبعث متوسطا يشتريه لنفسه بألف حالة ويقبضه ثم يبيعه من البائع الأول بألف ثم يحيل المتوسط بائعه على البائع الأول بالثمن الذي عليه وهو ألف حالة فيدفعها إلى المستقرض ويأخذ منه ألفين عند الحلول. قالوا: وهذا البيع مكروه  ۔۔۔۔ ثم الذي يقع في قلبي أن ما يخرجه الدافع إن فعلت صورة يعود فيها إليه هو أو بعضه كعود الثوب أو الحرير في الصورة الأولى، وكعود العشرة في صورة إقراض الخمسة عشر فمكروه، وإلا فلا كراهة إلا خلاف الأولى على بعض الاحتمالات كأن يحتاج المديون فيأبى المسئول أن يقرض بل أن يبيع ما يساوي عشرة بخمسة عشر إلى أجل فيشتريه المديون ويبيعه في السوق بعشرة حالة."

(كتاب الكفالة، ج:7، ص:212، 213، ط:دار الفكر)

مبسوط سرخسی میں ہے:

"وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد؛ لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم هذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم، وأتما العقد عليه فهو جائز؛ لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد."

(کتاب البیوع، باب البیوع الفاسدة، ج:13، ص:8، ط:دار المعرفة)

شرح المجلہ لسلیم رستم باز میں ہے:

"البیع مع تأجیل الثمن و تقسیطه صحیح، یلزم أن یکون المدة معلومةً في البیع بالتأجیل و التقسیط."

(الكتاب الاول فى البيوع، الباب الثالث فى بيان المسائل المتعلقة بالثمن، ج:1، ص:100، ط:رشيدية)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإن كان مؤجلا فليس للبائع أن يحبس المبيع قبل حلول الأجل ولا بعده كذا في المبسوط...إذا استوفى الثمن وسلم المبيع أو سلم بغير قبض الثمن أو قبض المشتري بإجازة البائع لفظا أو قبضه وهو يراه ولا ينهاه ليس له أن يسترده ليحبسه بالثمن."

(کتاب البیوع، الباب الرابع في حبس المبيع بالثمن وقبضه، ج:3، ص:15، ط:رشيدية)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144803101290

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں