بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الاول 1448ھ 13 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گود لیے ہوئے بچے کو اپنا نسب دینے کا حکم


سوال

کیا گود لیے ہوئے بچے کو ہم اپنا نسب دے سکتے ہیں ؟یا اپنی ولدیت میں ہمیشہ کےلیے رکھ سکتے ہیں؟

جواب

 واضح رہے کہ گود لیے ہوئے بچہ کو اس کے حقیقی والد کی طرف منسوب  کرنا (ازروئے قرآن وحدیث ضروری ہے ، منہ بولے بچہ کو اپنانام) ولدیت کے طورپر دینا جائز نہیں   حدیث شریف میں  ہے  کہ جو شخص جانتے بوجھتے اپنے حقیقی والدکے علاوہ کسی اور کو اپنا والدقرار دے، حالاں کہ وہ جانتا ہو کہ وہ اس کا والد نہیں ہے، تو اس پر جنت حرام ہے۔

 لہذاصورت مسئولہ میں  گود لیے ہوئے بچے کو( ولدیت کے طور پر   اپنانام ) دینا اور  اسے اپنے نسب میں شامل کرنا   شرعاً حرام  ہے، مذکورہ بچہ کو اس کے حقیقی والد کی طرف ہی منسوب رکھاجائے، کیوں کہ ایسا بچہ گود لینے والے افراد کا وارث نہیں ہوتا، گود لینے کے باوجود اس کے  حقیقی والدین ہی سے میراث میں حصہ لینے  کا  حق دا ر ہوگا۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

"اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآىٕهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِۚ-فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْۤا اٰبَآءَهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ مَوَالِیْكُمْ " (الاحزاب، ألآية: ٥)

ترجمہ:اور اگر تم ان کے باپوں کونہ جانتے ہوتو تمہارے بھائی ہیں  اور تمہارے دوست ہیں "از بیان القران )

صحیح البخاری  میں ہے:

"حدثنا مسدد: حدثنا خالد، هو ابن عبد الله: حدثنا خالد، عن أبي عثمان، عن سعد رضي الله عنه قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: (من ادعى إلى غير أبيه، وهو يعلم أنه غير أبيه، فالجنة عليه حرام). فذكرته لأبي بكرة فقال: وأنا سمعته أذناي ووعاه قلبي من رسول الله صلى الله عليه وسلم."

ترجمہ:حضرت سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:"جو شخص جانتے بوجھتے اپنے حقیقی باپ کے علاوہ کسی اور کو اپنا باپ قرار دے، حالانکہ وہ جانتا ہو کہ وہ اس کا باپ نہیں ہے، تو اس پر جنت حرام ہے۔"

(کتاب الفرائض،باب: من ادعى إلى غير أبيه،ج:6،ص:2485،ط:دارابن کثیر)

تفسیر مظہری میں ہے:

"فلا يثبت بالتبني شىء من أحكام النبوة من الإرث وحرمة النكاح وغير ذلك- وفى الآية رد لما كانت العرب تقول من أن اللبيب الأريب له قلبان والزوجة المظاهر منها تبين من زوجها وتحرم عليه كالأم ودعى الرجل ابنه يرثه ويحرم بالتبني ما يحرم بالنسب."

(الأحزاب، ج7، ص284، ط: رشدية)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے :

"رجل قال لعبده: هذا ابني أو قال لجاريته: هذه ابنتي إن كان المملوك يصلح والدا له وهو مجهول النسب يثبت النسب ويعتق العبد سواء كان العبد أعجميا جليبا أو مولدا، وإن كان العبد يصلح ولدا له لكنه معروف النسب يعتق العبد في قولهم ولا يثبت النسب، وإن كان العبد لا يصلح ولدا له لا يثبت النسب ويعتق العبد في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - كذا في فتاوى قاضي خان وهو الصحيح كذا في الزاد."

(كتاب العتاق، الباب الأول في تفسير العتاق شرعا وركنه وحكمه وأنواعه، ج: 2، ص: 6، ط: رشيديه)

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144803101286

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں