بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الاول 1448ھ 13 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تاخیر سے قرضہ وصولی کے وقت اضافی رقم کا مطالبہ کرنے کاحکم


سوال

ایک آدمی نے ٹھیکیدار سے گراؤنڈ اور پہلی منزل گھر بنوایا اور اس کا حساب بھی مکمل ہوگیا۔ اس کے بعد دو کمرے  مزید بنوائے، اور  دو کمروں کی تعمیرات کا کل خرچہ سات لاکھ تیس ہزار روپے طے پایا۔ مذکورہ شخص کے پاس ساڑھے تین لاکھ روپے تھے، باقی رقم کے متعلق یہ طے پایا کہ ہر ماہ دس ہزار روپے ادا کیے جائیں گے۔ پانچ ماہ تک ادائیگی ہوتی رہی، پھر مذکورہ شخص نے ادائیگی نہیں کی اور تین لاکھ تیس ہزار روپے باقی رہ گئے۔پھر کافی عرصہ گزر گیا اور مذکورہ شخص کا انتقال ہوگیا۔

اب مرحوم کے ورثاء 6 سال کے بعد بقیہ رقم، یعنی تین لاکھ تیس ہزار روپے، ادا کرنا چاہتے ہیں۔ تو ٹھیکیدار کا کہنا ہے کہ مجھے آج کے حساب سے رقم ادا کی جائے، اور وہ کہتا ہے کہ میں نے یہ رقم انویسٹمنٹ میں لگائی تھی، اور مجھے دس لاکھ روپےادا کیےجائیں۔یعنی 6 سال کے بعد گھر کی ویلیو بڑھ گئی تو اب زیادہ پیسوں کا مطالبہ کر رہا ہے۔ 

اب یہ پوچھنا ہے کہ آیا ٹھیکیدار کا مذکورہ مطالبہ درست ہے یا نہیں؟ 

جواب

صورت مسئولہ میں مرحوم کے ذمہ ٹھیکدار کی باقی ماندہ رقم  قرض  ہے، اور یہ رقم مرحوم کے ترکہ کی تقسیم سے پہلے ادا کی جائے گی۔تاہم ٹھیکیدار کا یہ مطالبہ کرنا کہ 6 سال پہلے جتنی رقم تھی اب اس کے بدلے میں اس کو زیادہ رقم دے دی جائے یہ مطالبہ شرعاً درست نہیں ہے۔قرض کی رقم کے بدلے میں اضافی رقم کا مطالبہ کرنا  ناجائز  ہے۔ ٹھیکیدار کی  جتنی رقم باقی ماندہ تھی وہ قرض تھی ، اب ادائیگی کے وقت وہ اسی رقم کے لینے کاحقدار ہے  ۔ 

ارشاد باری تعالیٰ ہے: 

" وَأَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلۡبَيۡعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰاْۚ " [البقرة: 275]          

ترجمہ: حالانکہ اللہ نے حلال کیا ہے سوداگری کو اور حرام کیا ہے سود کو۔ (معارف القرآن )

فتاویٰ شامی میں ہے:

"  مطلب الديون تقضى بأمثالها: (قوله بل وصف للذمة إلخ) ولهذا قيل إن الديون تقضى بأمثالها على معنى أن المقبوض مضمون على القابض لأن قبضه بنفسه على وجه التملك ولرب الدين على المدين مثله، فالتقى الدينان قصاصا وتمامه في البحر."

(كتاب الأيمان، باب اليمين في الضرب والقتل وغير ذلك، فروع قال لغيره والله لتفعلن كذا، ج: 3،ص: 848، ط: سعید)

وفيه أيضاً: 

"فإن الديون تقضى بأمثالها فيثبت للمديون بذمة الدائن مثل ما للدائن بذمته فيلتقيان قصاصًا."

(كتاب الشركة، مطلب في قبول قوله دفعت المال بعد موت الشريك أو الموكل، ج: 4، ص: 320، ط: سعید)

وفيه أيضاً: 

"فإذا استقرض مائة دينار من نوع فلا بد أن يوفي بدلها مائة من نوعها الموافق لها في الوزن أو يوفي بدلها وزناً لا عدداً، وأما بدون ذلك فهو رباً؛ لأنه مجازفة"

( کتاب البیوع، باب الربا، مطلب في استقراض الدراهم عددا، ج: 5، ص: 177، ط: سعید)

في العقود الدرية في تنقيح الفتاوی الحامدیةمیں ہے:

"( سئل ) في رجل استقرض من آخر مبلغاً من الدراهم و تصرف بها ثم غلا سعرها فهل عليه رد مثلها؟(الجواب) : نعم و لاينظر إلى غلاء الدراهم و رخصها كما صرح به في المنح في فصل القرض مستمداً من مجمع الفتاوى."

( كتاب البيوع، باب القرض، ج: 1، ص: 279، ط: دار المعرفة)

بدائع الصنائع میں ہے:

" الواجب على المستقرض مثل ما ‌استقرض دينا في ذمته لا عينه فكان محتملا للاستبدال كسائر الديون، ولهذا اختص جوازه بما له مثل من المكيلات، والموزونات، والعدديات المتقاربة دل أن الواجب على المستقرض تسليم مثل ما ‌استقرض لا تسليم عينه إلا أنه أقيم تسليم المثل فيه مقام تسليم العين."

( كتاب البيوع، فصل في حكم البيع، ج: 7، ص: 219، ط: دارالكتب العلمية)

فقط واللہ أعلم 


فتویٰ نمبر : 144803101280

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں