
بحث و مباحثے کے دوران ایک ساتھی نے دوسرے سے کہا کہ: "میں نے یہ قبیح فعل (زنا) زندگی میں کبھی نہیں کیا، اگر کسی کو ہاتھ لگایا ہو تو میری بیوی تین پتھروں کے ساتھ مجھ پر طلاق ہے" (پہ دری کانو طلاقہ یئ)۔
پھر بعد میں خیال آیا کہ یہ قبیح فعل (زنا) تو نہیں کیا، البتہ کسی کی جانب ہاتھ بڑھایا ہے،لیکن مس (ٹچ) نہیں کیا ، تو اب کیا حکم ہے؟
واضح رہے کہ طلاق کو اگر ماضی کے کسی ایسےکام کے ساتھ معلق کیا جائے جو ہوچکا ہو ،تو اسی وقت طلاق واقع ہو جاتی ہے، کیونکہ ماضی كے كسی كام پر تعلیق، تنجیز کے حکم میں ہوتی ہے۔
البتہ صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص جس نے اپنی بیوی کی طلاق کوان الفاظ کے ساتھ معلق کیا ہےکہ"میں نے یہ قبیح فعل (زنا) زندگی میں کبھی نہیں کیا، اگر کسی کو ہاتھ لگایا ہو تو میری بیوی تین پتھروں کے ساتھ مجھ پر طلاق ہے"، اور جس کام پر طلاق کو معلق کیا تھا (يعنی ہاتھ لگانا) وہ کام پہلے نہیں کیا ،کیونکہ کسی کی جانب ہاتھ بڑھایا تو تھا لیکن مس (ٹچ) نہیں کیا تھا ،جیسا کہ سوال میں صراحت ہے،لہذا شرط نہیں پائی گئی اور اس شخص کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔
البتہ اس طرح کی گفتگو سے آئندہ مکمل اجتناب کرے۔
فتح القدیر میں ہے :
"(قوله وإن قالت: قد شئت إن كان كذا لأمر قد مضى) كشئت إن كان فلان قد جاء وقد جاء، أو لأمر كائن كشئت إن كان أبي في الدار وهو فيها طلقت لأن التعليق بأمر كائن تنجيز."
(كتاب الطلاق، باب تفويض الطلاق، فصل في المشيئة، ج:4، ص:105، ط:دارالفکر)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق."
(کتاب الطلاق، الباب الرابع في الطلاق بالشرط ونحوه، الفصل الثالث في تعليق الطلاق بكلمة إن وإذا وغيرهما، ج: 1، ص: 420، ط: رشیدیة)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144803101229
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن