بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الاول 1448ھ 13 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کے انتقال کے بعد سالی سے نکاح کرنے کا حکم


سوال

 میری زوجہ کا انتقال ہوگیا ہے  اور اب مجھے دوسرا نکاح کرنے کی ضرورت ہے،  کیوں کہ گھر دیکھنے کے لیے عورت ضروری ہے، میری عمر 54 سال ہے،  2 بڑے بچوں کی شادی کردی ہے،  ایک بیٹی اور ایک بیٹا۔ بیٹا الگ رہتا ہے ایک چھوٹا بیٹا 17 سال کا ہے میرے ساتھ۔ میری ایک سالی جو کہ 45 سال کی ہے اس کی شادی نہیں ہوئی رشتے نہ ہونے اور کچھ بیماریوں کی وجہ سے میں چاہتا ہوں کہ اس سے نکاح ہوجائے،  مگر وہ مانتی نہیں ،کہتی ہے کہ میں اس کا بھائی ہوں۔ میں کہیں اور نکاح نہیں کرنا چاہتا،  وجہ یہ ہے کہ جیسی خالہ ہوگی، دوسری نہیں ہوسکتی۔  اب میں کیا کروں؟ آپ مشورہ دیں ، مہربانی ہوگی ۔

جواب

سالی سے نکاح کی ممانعت بیوی کی وجہ سے تھی، لہذا صورت مسئولہ میں  جب سائل کی زوجہ کا انتقال ہوگیا ہے تو  سالی کی رضامندی سے اس سے نکاح کرنے میں شرعا کوئی ممانعت یا قباحت نہیں ہے۔

الدر المختار وحاشیہ ابن عابدین میں ہے:

"ماتت امرأته له التزوج بأختها بعد يوم من موتها كما في الخلاصة عن الأصل وكذا في المبسوط لصدر الإسلام والمحيط والسرخسي والبحر والتاترخانية وغيرها من الكتب المعتمدة وأما ما عزي إلى النتف من وجوب العدة فلا يعتمد عليه وتمامه في كتابنا تنقيح الفتاوى الحامدية."

(کتاب النکاح،ج3،ص38،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144803101200

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں