
اگر کوئی بیٹا اپنے باپ کو قتل کر دے اور اس کا چشم دید گواہ اس کی اپنی ماں ہو، لیکن بعد میں وہ بیٹا دنیاوی عدالت سے ثبوت نہ ہونے یا گواہ کے پیش نہ ہونے کی وجہ سے بری ہو جائے، جب کہ حقیقت میں قتل اسی نے کیا ہو، تو کیا شرعی اور دینی اعتبار سے وہ اپنے باپ کی وراثت (جائیداد) کا حق دار ہوگا یا نہیں؟
وضاحت :اصل معاملہ یہ ہے کہ مذکورہ بیٹا اپنے والد کے قتل کا منکر نہیں ہے، بلکہ مقتول کی بیوہ کی جانب سے عدالت میں مقدمہ دائر کیا گیا تھا، مگر وہ بیماری کے باعث عدالت حاضر نہ ہوسکی، جس کی وجہ سے عدالت سے مذکورہ بیٹا بری ہو گیا۔ مزید یہ کہ آخری پیشی پر مقتول کے بعض رشتہ داروں نے جج سے کہا کہ اگر مذکورہ بیٹا قرآنِ کریم پر ہاتھ رکھ کر قسم اٹھا لے کہ اس نے اپنے والد کو قتل نہیں کیا تو ہم معاملہ ختم کردیں گے اور اسے وراثت میں حصہ دیں گے، لیکن اس نے قسم اٹھانے سے انکار کردیا۔ نیزقاتل نے اپنے بیٹے کو بھی زخمی کیا تھا، اور پورے علاقے میں یہ بات مشہور و معروف ہے کہ مذکورہ شخص نے ہی اپنے والد کو قتل کیا ہے۔
صورتِ مسئولہ میں جس بیٹے نے اپنے والد کو قتل کیا ہے اور وہ اس کا منکر بھی نہیں ہے تو وہ اپنے والد کی وراثت کا حق دار نہیں ہے، اگرچہ مقتول کی بیوہ (مدعیہ)کے حاضر نہ ہونے پر عدالت سے بری ہو گیا ہو۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"القاتل بغير حق لا يرث من المقتول شيئا عندنا سواء قتله عمدا أو خطأ، وكذلك كل قاتل وهو في معنى الخاطئ كالنائم إذا انقلب على مورثه، وكذلك إن سقط من سطح على مورثه فقتله أو أوطأ بدابته مورثه وهو راكبها، كذا في المبسوط."
(کتاب الفرائض، ج:6، ص: 454، ط:دار الفكر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144803101197
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن