
اگر ایک بیٹا اپنے ذاتی پیسوں سے کوئی پراپرٹی وغیرہ لے اور اپنی ماں کے نام پر رکھے، تو اُن کے انتقال کے بعد مرحومہ کے باقی بچوں کا بھی اُس پراپرٹی میں حصہ بنے گا؟
بصورتِ مسئولہ بیٹے نے جو پراپرٹی اپنے ذاتی پیسوں سے خریدی اور اپنی والدہ کے نام کی تھی، اگر پراپرٹی بیٹے کے قبضہ اور تصرف و استعمال میں ہی تھی، عملاً اختیارات والدہ کو نہیں دیے گئے، والدہ کے فقط نام کی گئی تھی، تو شرعاً اُس کا مالک و مختار بیٹا ہی کہلائے گا، اور والدہ کے انتقال کے بعد وہ پراپرٹی بطورِ میراث تقسیم نہیں کی جائے گی، بلکہ مذکورہ بیٹا ہی اُس کا مالک ہے۔بصورتِ دیگر بیٹے نے پراپرٹی والد کے نام کرنے کے ساتھ ساتھ اُس کا قبضہ و اختیارات تمام والدہ کے سپرد کردیے تھے، اور والدہ ہی اُس میں عملاً مُتصرف تھیں، تووالدہ اُس کی مالکن کہلائیں گی،بیٹے کی ملکیت ختم ہوچکی تھی، لہذا اِس صورت میں والدہ مرحومہ کے اِنتقال کے بعد مذکورہ پراپرٹی تمام شرعی ورثاء میں شرعی حصص کے مطابق تقسیم کرنا لازم ہے۔
حاشية رد المحتار علي الدرالمختار میں ہے :
"(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به).
وفي الرد :فيشترط القبض قبل الموت."
(كتاب الهبة، ج:5، ص:690، ط:سعيد)
قرة عيون الأخيار: تكملة رد المحتار على الدر المختار میں ہے:
"قوله: (الخالية إلخ) صفة كاشفة، لان التركة في الإصطلاح ما تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال كما في شروح السراجية."
(کتاب الفرائض،ج:7، ص:350، ط:دارالفكر بيروت لبنان)
القواعد الفقهية وتطبيقاتها في المذاهب الأربعة میں ہے:
"الإرث هو تملك ما تركه الميت المورث من مال، ولا ينتقل من المورث إلى الوارث إلا المال المملوك."
(ج:1، ص:636، ط:دار الفكر - دمشق)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144803101192
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن