بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الاول 1448ھ 08 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مذاق اور حالتِ حمل میں دی گئی تین طلاقوں کا حکم


سوال

میری دو بیویاں ہیں، میری دوسری بیوی نے مجھ سے کہا کہ پہلی بیوی کو طلاق دو، میں نے کہا ٹھیک ہے، میں دیتا ہوں۔ پھر میں نے پہلی بیوی کو کہا کہ کل میں آپ کو مذاق میں طلاق دوں گا، انہوں نے کہا کہ: ٹھیک ہے۔

پھر اگلے دن میں نے بیوی کو فون کیا اور کہا کہ میں نے کل تمہیں کہا تھا کہ میں مذاق میں طلاق دوں گا۔ پھر میں نے ان کو یہ الفاظ کہے: "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں"۔

اب سوال یہ ہے کہ:

1- کیا مذکورہ صورت میں طلاق ہو چکی ہے یا نہیں؟

2- میری پہلی بیوی، جنہیں میں نے طلاق کے مذکورہ الفاظ کہے ہیں، ان کو 4 ماہ کا حمل بھی ہے، تو کیا حالتِ حمل میں طلاق واقع ہوتی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ مذاق  یا حالت حمل میں دی جانے والی طلاق بھی شرعاً واقع ہوجاتی ہے۔

 صورت میں مسئولہ میں جب سائل نے اپنی بیوی کہا ''میں تمہیں طلاق دیتاہوں، طلاق دیتاہوں، طلاق دیتاہوں''۔تو ان الفاظ  سےسائل  کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں، نکاح ختم ہوچکاہے، عورت اپنے شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے،  اب رجوع یاتجدید نکاح کرکےساتھ رہنے کی گنجائش   نہیں ہے، بیوی اپنی عدت ( یعنی بچے کی پیدائش تک عدت)  گزار کر دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

''وكذلك الجد ليس من شرائط جواز النكاح حتى يجوز نكاح الهازل؛ لأن الشرع جعل الجد، والهزل في باب النكاح سواء قال النبي: صلى الله عليه وسلم «‌ثلاث ‌جدهن ‌جد، ‌وهزلهن جد الطلاق والعتاق والنكاح»''

(كتاب النكاح، فصل الكفاءة في إنكاح غير الأب، ج :2،ص : 210 ، ط:سعید)

وفیہ أيضاً:

"وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضاً حتى لايجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل -﴿فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ﴾[البقرة: 230] ،وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة."

( کتاب الطلاق، فصل فی حكم الطلاق البائن، ج:3،ص:187، ط: سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإن كان الطلاق ثلاثًا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجًا غيره نكاحًا صحيحًا و يدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها، كذا في الهداية."

(کتاب الطلاق، الباب السادس فى الرجعة، فصل فيماتحل به المطلقة و مايتصل به، ج:1، ص:473، ط: مكتبة رشيدیة)

فتاوی شامی میں ہے:

" (و) في حق (الحامل) مطلقا ولو أمة، أو كتابية، أو من زنا بأن تزوج حبلى من زنا ودخل بها ثم مات، أو طلقها تعتد بالوضع جواهر الفتاوى (وضع) جميع (حملها)."

(كتاب الطلاق، باب العدة، مطلب في عدة الموت، ج:3، ص:511، ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144803101188

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں