
میرے شوہر ڈھائی سال پہلے غصے میں یہ الفاظ بول کر مجھے تین طلاقیں دی تھیں کہ ”میں نے اسے طلاق دی، طلاق دی، طلاق دی“ لیکن اب بچے بھی بہت پریشان ہیں اور خاوند بھی اپنی بات پر بہت پریشان ہیں، اب وہ کہہ رہا ہے کہ ہم دوبارہ ایک ساتھ ہو جاتے ہیں، لیکن نکاح کے لیے جس شخص سے بات کی ہے وہ کہہ رہا ہے کہ میں طلاق نہیں دوں گا، پکا پکا اپنے پاس رکھ لوں گا۔
اب ہمارے لیے شرعا کیا حکم ہے؟ ہم کیسے ایک ساتھ ہو سکتے ہیں؟
صورتِ مسئولہ میں اگر شوہر نے واقعۃً اپنی بیوی کو ’’میں نے اسے طلاق دی، طلاق دی، طلاق دی‘‘ کہہ کر تین طلاقیں دی تھیں، تو تینوں طلاقیں واقع ہوگئیں اور عورت شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی۔ اب نہ رجوع ہوسکتا ہے اور نہ براہِ راست دوبارہ نکاح کی گنجائش ہے۔
البتہ اگر عورت عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے کسی دوسرے شخص سے باقاعدہ نکاح کرے اور ازدواجی تعلق قائم ہوجائے، پھر دوسرا شوہر اپنی مرضی سے طلاق دے دے یا اس کا انتقال ہوجائے، تو دوسری عدت گزارنے کے بعد پہلے شوہر سے نئے مہر اور گواہوں کی موجودگی میں نکاح کرسکتی ہے۔
لیکن اس مقصد کے لیے حیلہ کرنا اور طلاق دینے کے ارادے یا طلاق دینے کی شرط پر وقتی نکاح کرنا از روئے حدیث باعثِ لعنت ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حلالہ کرنے والے اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے، دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔ نیز حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حلالہ کرنے والے کو ’’مانگے ہوئے سانڈ‘‘ سے تعبیر فرمایا اور حلالہ کرنے اور کرانے والے دونوں پر لعنت فرمائی۔
لہٰذا موجودہ صورت میں پہلے شوہر کے ساتھ دوبارہ رہنے کے لیے کسی دوسرے شخص سے اس شرط یا طے شدہ ارادے کے ساتھ نکاح کرنا کہ وہ بعد میں طلاق دے گا، ناجائز اور باعثِ لعنت ہے۔
مسند احمد بن حنبل میں ہے:
"عن أبي هريرة، قال: لعن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم المحل، والمحلل له."
(مسند أبي هريرة رضي الله عنه، ج:14، ص: 42، ط : مؤسسة الرسالة)
سنن ابن ماجہ میں ہے:
"حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ ، يَقُولُ: قَالَ لِي أَبُو مُصْعَبٍ مِشْرَحُ بْنُ هَاعَانَ ، قَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالتَّيْسِ الْمُسْتَعَارِ"، قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" هُوَ الْمُحَلِّلُ، لَعَنَ اللَّهُ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ".
(سنن ابن ماجه، كتاب النكاح، حدیث: 1936)
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:
"(عن عبد الله بن مسعود قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم المحلل» ) : بكسر اللام أي للزوج الثاني بقصد الطلاق أو على شرطه (والمحلل له) : بفتح اللام أي الزوج الأول وهو المطلق ثلاثا قال القاضي: المحلل الذي تزوج مطلقة الغير ثلاثا على قصد أن يطلقها بعد الوطء ليحل للمطلق نكوحها، وكأنه يحللها على الزوج الأول بالنكاح والوطء، والمحلل له هو الزوج وإنما لعنهما لما في ذلك من هتك المروءة وقلة الحمية والدلالة على خسة النفس وسقوطها، أما بالنسبة إلى المحلل له فظاهر، وأما بالنسبة إلى المحلل فلأنه يعير نفسه بالوطء لغرض الغير، فإنه إنما يطؤها ليعرضها لوطء المحلل له ولذلك مثله صلى الله عليه وسلم بالتيس المستعار وليس في الحديث ما يدل على بطلان العقد كما قيل، بل يستدل به على صحته من حيث إنه سمى العاقد محللا وذلك إنما يكون إذا كان العقد صحيحا فإن الفاسد لا يحلل، وهنا إذا أطلق العقد فإن شرط فيه الطلاق بعد الدخول ففيه خلاف والأظهر بطلانه، قال الشمني: فإن قلت ما معنى لعنهما قلت: معنى اللعن على المحلل، لأنه نكاح على قصد الفراق، والنكاح شرع للدوام، وصار كالتيس المستعار، واللعن على المحلل له؛ لأنه صار سببا لمثل هذا النكاح والمراد إظهار خساستهما لأن الطبع السليم ينفر عن فعلهما لا حقيقة اللعن لأنه صلى الله عليه وسلم ما بعث لعانا، اهـ. ... و حديث عقبة هكذا «قال صلى الله عليه وسلم: ألا أخبركم بالتيس المستعار، قالوا: بلى يا رسول الله، قال: هو المحلل لعن الله المحلل والمحلل له». رواه ابن ماجه، قال ابن عبد الحق: إسناده حسن."
(کتاب النكاح، باب المطلقة ثلاثا، الفصل الثاني، ج:5، ص:2149، ط: دار الفکر )
مستدرک حاکم میں ہے:
"قال عقبة بن عامر الجهني رضي الله عنه: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا أخبركم بالتيس المستعار؟» قالوا: بلى يا رسول الله، قال: «هو المحل، فلعن الله المحل، والمحلل له» ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لعن الله المحل، والمحلل له» هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه تعليق الذهبي: صحيح."
(كتاب الطلاق ، ج:2، ص:217، ط: دار الكتب العلمية)
فتاوی ہندیہ میں ہے :
"وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز."
(کتاب الطلاق، الباب السادس، فصل فیما تحل به الطلقة،ج:1، ص: 473، ط: رشیدیة)
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية ... سواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة."
(کتاب الطلاق، فصل فی حکم الطلاق البائن، ج:3، ص:187، ط:دار الکتب العلمیة)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144803101167
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن