بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ربیع الثانی 1448ھ 18 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرض کے طور پر دیے ہوئے چاندی کے سکوں کو کس قیمت کے اعتبار سے واپس کیا جائے گا؟


سوال

ایک شخص نے بہت پہلے دوسرے شخص سے چھ سو  (600) چاندی کے سکے بطورِ قرض لیے تھے، اور ان سکوں   کے بدلے اپنی زمین گروی رکھی تھی۔

2014ء تک وہ ان سکوں کو واپس نہیں کرسکا،  2014ءمیں  دونوں کے درمیان جرگہ ہوا، جس میں سربرہان جرگہ نے یہ فیصلہ کیا کہ مقروض  ان چھ سو سکوں کی موجودہ قیمت  جو کہ  4140 روپے بن رہی تھی، وہ مقرض (سکے قرض پر  دینے والا)  کو ادا کرے گا، دونوں فریقین اس فیصلے پر متفق ہوئے،  مگر مقروض اس وقت اس قیمت کی ادائیگی پر قادر نہیں تھا، اس لیے  وہ ادا نہ کر سکا، اس لیے جرگہ نے مزید دو سال کے لیے اس کی زمین دوسرے فریق کے پاس  بطور گروی رہنے دی۔ لیکن پھر  مقروض نے ابھی (2026ء)  تک وہ قیمت ادا نہیں کی،اب چونکہ  چاندی کی قیمت بڑھ گئی ہے، اس لیے مقرض ان چھ سو  چاندی کے  سکوں کا موجودہ قیمت کے حساب سے مطالبہ کرتا ہے، جبکہ مقروض 2014ء میں  چھ سو  سکوں کی جو قیمت  لگائی گئی تھی، وہی قیمت ادا کرنے دینے کے لیے تیار ہے۔

سوال یہ ہے  ان چھ  سو  چاندی کے سکوں کی ادائیگی کس قیمت کے حساب سے کی جائے گی، موجودہ قیمت (2026) کے حساب سے یا 2014ء میں لگائی گئی قیمت کے حساب سے؟ نیز جو زمین مقروض  نے  گروی رکھی ہے اس کو کونسی قیمت ادا کرکے  مقرض سے چھڑانا ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ  چاندی کے قرض لینے کی صورت میں  واپسی پر  اتنی ہی   مقدار چاندی  اگر چاندی موجود ہو، اور   اگر چاندی موجود نہ ہو تو  اس مقدار چاندی کی موجودہ قیمت  لوٹانا لازم ہے۔

لہٰذا صورتِ  مسئولہ میں  مقروض شخص پر    مقرض (قرض پر سکے  دینے والا)   کو چھ سو  چاندی کے سکے لوٹانا لازم تھے۔

پھر  2014ء میں جرگہ میں جو فیصلہ ہوا تھا کہ مقروض شخص  دوسرے فریق کو ان سکوں کے بدلہ میں بطورصلح کےاس وقت کی موجودہ قیمت جو کہ 4140 روپے بنتی تھی  ادا کرے، تو چاندی کے سکوں کے بدلہ میں روپے کا فیصلہ  شرعًا  چاندی کے بدلے روپے کی بیع تھی، چونکہ دونوں طرف ثمن تھا اس لیے یہ بیع  ”بیعِ صرف“ تھی، اور بیعِ صرف کا حکم یہ ہے کہ اس میں عقد کی مجلس میں بدلَین  پر قبضہ کرنا ضروری ہوتا ہے، اگر کسی ایک بدل پر مجلس میں قبضہ نہیں کیا گیا تو یہ بیع فاسد ہوجاتی ہے، اور بیع  کے فاسد ہونے کی صورت میں اسی چیز کا واپس کرنا ضروری ہوتا ہے۔ صورتِ مسئولہ  میں چاندی پہلے ہی مقروض شخص نے قبضہ کی تھی،  لہٰذا اس مجلس میں مقرض کا پیسوں پر  قبضہ کرنا ضروری تھا، لیکن مقروض شخص نے جب اسی مجلس میں مقرض کو پیسے ادا نہیں کیے تو بیع فاسد ہوگئی، اور مقروض شخص پر وہی چاندی لوٹانا لازم ہوگیا جو اس نے قرض  لے لی تھی۔ 

الغرض مقرِض کا مطالبہ درست ہے،  مقروض شخص پر   مقرِض   کو چھ سو چاندی کے سکے یا ان کی موجودہ قیمت لوٹانا لازم ہے۔

جب مقروض شخص مقرض کو پورے چھ سو چاندی کے سکے یا ان کی موجودہ قیمت ادا کر  دے، تو پھر وہ اپنی زمین مقرِض سے واپس لے سکتا ہے، لیکن جب تک وہ پوری ادائیگی نہیں کرے گا تو اس کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ مقرض سے زمین واپس لے۔

العقود الدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ  میں ہے:

"(سئل) في رجل استقرض من آخر مبلغا من الدراهم وتصرف بها ثم غلا سعرها فهل عليه رد مثلها؟(الجواب) : نعم ولا ينظر إلى غلاء الدراهم ورخصها كما صرح به في المنح في فصل القرض مستمدا من مجمع الفتاوى."

(کتاب البیوع، باب القرض، ج: 1، ص: 279، ناشر: دار المعرفة)

البحر الرائق میں ہے:

"(هو بيع بعض الأثمان ببعض) كالذهب والفضة إذا بيع أحدهما بالآخر أي بيع ما من جنس الأثمان بعضها ببعض وإنما فسرناه به ولم نبقه على ظاهره ليدخل فيه بيع المصوغ بالمصوغ أو بالنقد فإن المصوغ بسبب ما اتصل به من الصنعة لم يبق ثمنا صريحا ولهذا يتعين في العقد ومع ذلك بيعه صرف۔۔۔والرابع في شرائطه فأربعة، الأول قبض البدلين قبل الافتراق بالأبدان۔۔۔الثالث أن لا يكون بدل الصرف مؤجلا فإن أبطل صاحب الأجل الأجل قبل التفرق ونقد ما عليه ثم افترقا عن قبض من الجانبين انقلب جائزا وبعد التفرق لا."

(کتاب الصرف، ج: 6، ص: 209، ط: دار الکتاب الإسلامي)

وفیہ ایضًا:

"(فإن وقع عن مال بمال بإقرار اعتبر بيعا) إن كان على خلاف الجنسإلا في مسألتين الأولى إذا صالح من الدين على عبد وصاحبه مقر بالدين وقبض العبد ليس له المرابحة من غير بيان، الثانية إذا تصادقا على أن لا دين بطل الصلح كما لو استوفى عين حقه ثم تصادقا أن لا دين فلو تصادقا على أن لا دين لا يبطل الشراء وإن وقع على جنسه فإن كان بأقل من المدعى فهو حط وإبراء وإن كان بمثله فهو قبض واستيفاء وإن كان بأكثر فهو ربا وإذا اعتبر بيعا ثبتت أحكامه (فيثبت به الشفعة والرد بالعيب وخيار الرؤية ويفسده جهالة الأجل والبدل) إن كان مما يحتاج إلى التسليم."

(کتاب الصلح، فصل الصلح عن دعوی المال، ج: 7، ص: 256، ط: دار الکتاب الإسلامي)

فتاوٰی قاضی خان میں ہے:

"رجل ادعى على رجل ألف درهم فأنكر فاصطلحا على عشرة دنانير جاز. وإن افترقا قبل القبض يبطل لأن الصلح على غير جنس الحق لا يكون إلا مبادلة والصرف يبطل بالافتراق من غير قبض. رجل عليه لرجل ألف درهم جياد فاصطلحا على عشرة دنانير، وافترقا قبل القبض يبطل."

(کتاب الصلح، فصل في الصلح عن الدین، ج: 2، ص: 566، ط: دار الکتب العلمیة)

رد المحتار میں ہے:

"مطلب في قولهم ‌الديون ‌تقضى بأمثالها...قد قالوا إن ‌الديون ‌تقضى بأمثالها...الخ."

(کتاب الرهن، فصل فی مسائل متفرقة، ج: 6، ص: 525، ط: سعید)

فتاوٰی ہندیہ میں ہے:

"وللمرتهن أن يطالب الراهن بالدين ويحبسه به فإن خاصمه إلى الحاكم أوجب عليه تسليم الدين فإن امتنع حبسه به فإن كان الرهن في يده فليس عليه أن يمكنه من بيعه حتى يقضي الدين من ثمنه، ولو قضاه البعض فله أن يحبس كل الرهن حتى يستوفي البقية فإذا قضاه الدين قيل له: سلم الرهن إليه كذا في السراج الوهاج."

(کتاب الرھن، الباب الثاني في الرھن بشرط أن یوضع علی یدي عدل، ج: 5، ص: 446، ط: رشیدیة)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144803101165

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں