
قبرستان میں لاؤڈ اسپیکر پر قرآن مجید کی تلاوت چلانا تاکہ مرحومین عذاب قبر سے نجات حاصل کریں تو کیا اس طرح پورا دن تلاوت چلانا شرعا درست ہے؟
اگر سوال میں قبرستان میں تلاوت چلانے سے مراد ریکارڈنگ چلانا ہے تو اس کا حکم یہ ہے کہ قبرستان میں لاؤڈ اسپیکر پر پورا دن قرآنِ مجید کی ریکارڈنگ اس نیت سے چلانا کہ اس سے مرحومین کو عذابِ قبر سے نجات ملے، درست نہیں، قرآن مجید کی خود تلاوت کرنا عبادت کا کام ہے، لہذا مرحومین کے ایصال ثواب کے لیے زیادہ بہتر طریقہ یہ ہے کہ ان کے لیے خود تلاوت کی جائے، دعائے مغفرت، صدقہ و خیرات اور دیگر نیک اعمال کر کے ان اعمال کا ثواب مرحومین کو پہنچایا جائے۔
پھر اگر قبرستان میں خود قرآن کریم کی تلاوت کرنی ہو تو اس کے لیے بھی مسلسل لاؤڈ اسپیکر کا استعمال مناسب نہیں؛ کیونکہ ایسا کرنا آس پاس موجود لوگوں اور قبرستان میں آنے جانے والوں کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے، نیز ممکن ہے کہ لوگ تلاوت قرآن کو توجہ سے نہ سنیں، جس سے قرآنِ کریم کے ادب میں خلل واقع ہو، البتہ اگر لاؤڈ اسپیکر کے بغیر جہراً تلاوت کرنی ہو تو اس کی اجازت ہے، تاہم ایسی مناسب آواز سے پڑھے جس سے دوسروں کو تشویش نہ ہو۔
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"لايقرأ جهرا عند المشتغلين بالأعمال ومن حرمة القرآن أن لا يقرأ في الأسواق، وفي موضع اللغو، كذا في القنية."
(کتاب الکراهیة، الباب الرابع فی الصلوۃ و التسبیح و رفع الصوت عند قراءۃ القرآن، جلد:5، صفحه:316، ط:دارالفکر)
البحر الرائق میں ہے:
"وفي النوازل: قراءة القرآن عند المقابر إذا أخفاها لا يكره وإن جهر بها يكره ... وفي الخانية أن قراءة القرآن عند القبور إن نوى أن يؤانسهم بصوته يقرأ وإن لم يقصد ذلك فالله سبحانه وتعالى يسمع القرآن حيث كان قوم يقرءون القرآن في المصاحف."
(كتاب الكراهية، فصل في البيع، ج: 8، ص: 235، ط: دار الكتاب الإسلامي)
فتاویٰ محمودیہ میں ہے:
سوال: "قبر پر تلاوت بلند آواز سے پڑھنی چاہیے یا آہستہ سے؟ اور بزرگوں کے مزاروں پر کثرت سے قرآن خوانی بلند آواز سے ہوتی ہے، کیا حکم ہے؟"
جواب: "دونوں طرح درست ہے، بشرط یہ کہ کوئی عارض نہ ہو۔
(کتاب الجنائز، فصل فی التلاوۃ عند القبر، ج: 9، ص: 259، ط: ادارۃ الفاروق)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144803101130
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن