بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تنخواہ کی مد میں زکوۃ دینے کا حکم

سوال

ہمارے گھر میں ماسی آتی ہے،ہم اس کو  کام کے پیسے دیتے ہیں لیکن اس کے ساتھ زکوۃ کے پیسے بھی ملا دیتے ہیں ،لیکن اس کو نہیں بتاتے ہیں ؟ تو کیا ایسا کرنا درست ہے۔

جواب

زکوۃ کی مد سے تنخواہ دینا جائز نہیں ،اور نہ ہی ایسا کرنے سے زکوۃ ادا ہوتی ہے، لہذا صورت مسئولہ میں طے شدہ تنخواہ میں زکوٰۃ شامل کرکے دینے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی، البتہ  جو تنخواہ مقرر ہے وہ پوری دی جائے اور الگ سے تعاون کی مد  میں زکوٰۃ دی جا سکتی ہے،  بشرطیکہ  ماسی مستحق زکوۃ ہو، زکوٰۃ دیتے وقت نیٹ کرنا ضروری ہے، ماسی کو بتانا ضروری نہیں۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"أما تفسيرها فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله - تعالى -".

(كتاب الزكاة، الباب الأول فی تفسير الزكاة وصفتہا وشرائطها، ج:1،ص:170، ط: رشيديۃ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144803101107
تاریخ02-09-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں