
والد اپنی زندگی میں اپنا سونا اپنے بیٹے کو دے دیتے ہیں، پھر بیٹا اپنی منگنی یا شادی کے موقع پر وہ سونا اپنی بیوی کو صرف پہننے اور استعمال کرنے کی نیت سے دیتا ہے، اس میں اپنی بیوی کو مالک بنانا مقصود نہیں ہوتا، اسی طرح خاندان والوں کے عرف میں بھی یہ رواج نہ ہو کہ شادی کے موقع پر مہر کے علاوہ زیورات دیے جاتے ہوں۔اور اس کی زکوٰۃ بھی خود ادا کرتا ہے۔ بعد ازاں اگر میاں بیوی کے درمیان طلاق ہو جائے تو ایسی صورت میں اس سونے کا شرعی مالک کون ہوگا؟
صورت مسئولہ میں اگر واقعتاً شوہر اپنی بیوی کو مہر کے علاوہ زیورات منگنی یا شادی کے موقع پر بطورِ عاریت صرف استعمال کے لیے دیتا ہے، اور دیتے وقت اس بات کی وضاحت بھی کر دیتا ہے کہ یہ زیورات بطورِ ملکیت نہیں دیے جا رہے بلکہ صرف استعمال کے لیے دیے جا رہے ہیں،اور شوہر ہی اس کی زکات دیتا تھا، تو ایسی صورت میں ان زیورات کی مالک بیوی نہیں ہوگی، بلکہ شوہر ہی ان زیورات کا مالک ہوگا۔طلاق کی صورت میں شوہر کو لینے کا حق حاصل ہوگا۔
مجمع الضمانات میں ہے:
" تزوجها، وبعث إليها بهدايا، وعوضته، وزفت إليه، وفارقها فقال ما بعثته فكله عارية فالقول له في متاعه لأنه ينكر التمليك."
(باب في النكاح والطلاق، ص:344، ط:دار الكتاب الإسلامي)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وإذا بعث الزوج إلى أهل زوجته أشياء عند زفافها منها ديباج فلما زفت إليه أراد أن يسترد من المرأة الديباج ليس له ذلك إذا بعث إليها على جهة التمليك، كذا في الفصول العمادية."
(کتاب النکاح، باب المهر، الفصل السادس عشر فی جهاز البنت، ج:1، ص: 327، ط: رشیدیة)
فقط واللہ أعلم.
فتویٰ نمبر : 144803101103
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن