بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

باپ شریك بھائی كی موجودگی میں مرحوم كے بھتیجے محروم رہیں گے

سوال

ایك شخص فوت ہوا، اس كی كوئی اولاد نہیں تھی، والدین، بیوی بھائی بہن كوئی بھی اس كی وفات كے وقت حیات نہیں تھا، البتہ اس كا ایك باپ شریك بھائی حیات ہے، نیز اس كے دیگر بھائیوں كے بچے یعنی بھتیجے بھی حیات ہیں۔ اس كی وراثت كس كو ملے گی؟ كیا بھتیجے بھی وارث بنیں گے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں باپ شریك بھائی كی موجودگی میں مرحوم كے بھتیجے مرحوم كی وراثت كے حقدار نہیں ہوں گے، مرحوم كے مكمل تركہ كا حقدار بطورِ عصبہ مرحوم كا باپ شریك بھائی ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف جزء الميت ثم أصله ثم جزء أبيه ثم جزء جده (ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب فيقدم جزء الميت (كالابن ثم ابنه وإن سفل ثم أصله الأب ويكون مع البنت) بأكثر (عصبة وذا سهم) كما مر (ثم الجد الصحيح) وهو أبو الأب (وإن علا) وأما أبو الأم ففاسد من ذوي الأرحام (ثم جزء أبيه الأخ) لأبوين (ثم) لأب ثم (ابنه) لأبوين ثم لأب (وإن سفل)."

 (‌‌كتاب الفرائض‌‌، فصل في العصبات، ج: 6، ص: 774، ط: حلبی)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144803101061
تاریخ20-09-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں