
ایك شخص فوت ہوا، اس كی كوئی اولاد نہیں تھی، والدین، بیوی بھائی بہن كوئی بھی اس كی وفات كے وقت حیات نہیں تھا، البتہ اس كا ایك باپ شریك بھائی حیات ہے، نیز اس كے دیگر بھائیوں كے بچے یعنی بھتیجے بھی حیات ہیں۔ اس كی وراثت كس كو ملے گی؟ كیا بھتیجے بھی وارث بنیں گے؟
صورتِ مسئولہ میں باپ شریك بھائی كی موجودگی میں مرحوم كے بھتیجے مرحوم كی وراثت كے حقدار نہیں ہوں گے، مرحوم كے مكمل تركہ كا حقدار بطورِ عصبہ مرحوم كا باپ شریك بھائی ہوگا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف جزء الميت ثم أصله ثم جزء أبيه ثم جزء جده (ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب فيقدم جزء الميت (كالابن ثم ابنه وإن سفل ثم أصله الأب ويكون مع البنت) بأكثر (عصبة وذا سهم) كما مر (ثم الجد الصحيح) وهو أبو الأب (وإن علا) وأما أبو الأم ففاسد من ذوي الأرحام (ثم جزء أبيه الأخ) لأبوين (ثم) لأب ثم (ابنه) لأبوين ثم لأب (وإن سفل)."
(كتاب الفرائض، فصل في العصبات، ج: 6، ص: 774، ط: حلبی)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144803101061
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن