
میرا اور میرے اہل خانہ کا سابقہ تعلق قادیانی احمدی جماعت سے تھا، تاہم اللہ تعالی کے فضل و کرم سے چار سال قبل ہم سب نے اسلام کو قبول کر لیا، اور بحیثیت مسلمان اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔
اب ہمارے بچے بچیاں رشتے کی عمر کو پہنچ رہے ہیں، تو سوال یہ ہے کہ جب ہم اپنے بچوں کے نکاح یا رشتے کی بات کرے تو کیا شرعا ہمارے لیے اپنے سابقہ مذہبی پس منظر یعنی قادیانی ہونے کا ذکر کرنا لازم ہے یا نہیں؟
اگر ہم اس کا ذکر نہ کریں تو کیا یہ دھوکا تو شمار نہیں ہوگا؟
صورت مسئولہ میں سائل کے لیے اگرچہ ہر موقع پر اپنے سابقہ مذہب کا ذکر کرنا ضروری نہیں، تاہم نکاح کا رشتہ چونکہ باہمی رضامندی اور اعتماد کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، اس لیے رشتہ کرنے سے قبل اپنے مذہب کے بارے میں حقیقت حال سے آگاہ کر دینے میں ہی احتیاط ہے، تاکہ بعد میں دونوں خاندانوں کے درمیان لڑائی، جھگڑے کا اندیشہ باقی نہ رہے۔البتہ اگر نکاح سے پہلے فریق ثانی دین کے متعلق صراحتاً دریافت کرے یا اگر فریق ثانی کو سائل کے سابقہ مذہب کے بارے میں علم ہوتا تو وہ رشتہ نہ کرتا ، تو ایسی صورت میں سائل پر لازم ہے کہ وہ ان کو حقیقت سے آگاہ کرے، تا کہ بعد میں اختلاف کا باعث نہ بنے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(الكفاءة معتبرة) في ابتداء النكاح للزومه أو لصحته (من جانبه) أي الرجل لأن الشريفة تأبى أن تكون فراشا للدنيء ولذا (لا) تعتبر (من جانبها) .... ولو زوجوها برضاها ولم يعلموا بعدم الكفاءة ثم علموا لا خيار لأحد إلا إذاشرطوا الكفاءة أو أخبرهم بها وقت العقد فزوجوها على ذلك ثم ظهر أنه غير كفء كان لهم الخيار ولوالجية فليحفظ."
(كتاب النكاح،باب الكفاءة، ج: 3، ص: 84، ط:سعید)
البحر الرائق میں ہے:
"وفي فتح القدير واعلم أنه لا يبعد كون من أسلم بنفسه كفؤا لمن عتق بنفسه اهـ.قيدنا اعتبارهما في حق العجم لما في التبيين وغيره أن أبا حنيفة وصاحبيه اتفقوا أن الإسلام لا يكون معتبرا في حق العرب؛ لأنهم لا يتفاخرون به، وإنما يتفاخرون بالنسب اهـ .... وأما الحرية والإسلام فمعتبران في العرب والعجم بالنسبة إلى الزوج، وأما بالنسبة إلى أبيه وجده فالحرية معتبرة في حق الكل أيضا، وأما الإسلام فمعتبر في العجم فقط وفي القنية رجل ارتد والعياذ بالله ثم أسلم فهو كفء لمن لم يجر عليها ردة."
(كتاب النكاح، فصل في الأكفاء في النكاح، ج:3، ص: 137، ط:دار الكتاب الإسلامي)
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله ولا يبعد إلخ) ظاهره أنه قاله تفقها، وقد رأيته في الذخيرة ونصه ذكر ابن سماعة في الرجل يسلم والمرأة معتقة أنه كفء لها. اهـ.ووجهه: أنه إذا أسلم وهو حر وعتقت وهي مسلمة يكون فيه أثر الكفر وفيها أثر الرق وهما منقصان وفيه شرف حرية الأصل وفيها شرف إسلام الأصل وهما مكملان فتساويا بقي ما لو كان بالعكس بأن أسلمت المرأة وعتق الرجل فالظاهر أن الحكم كذلك بشرط أن لا يكون إسلامه طارئا وإلا ففيه أثر الكفر، وأثر الرق معا فلا يكون كفؤا لمن فيها أثر الكفر فقط تأمل"
(كتاب النكاح، باب الكفاءة، ج: 3، ص: 84، ط: سعید)
فقط و الله أعلم
فتویٰ نمبر : 144803101047
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن