بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 ربیع الاول 1448ھ 04 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ولیمہ کی دو دعوتیں کرنا کیسا ہے؟


سوال

اگر ہمارے پاس جگہ نہ ہو تو کیا دو ولیمے کرسکتے ہیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ  میں   ولیمہ کا بہتر طریقہ یہ ہے  کہ رخصتی کے بعد ولیمہ کی دعوتِ عام کردی جائے کہ مہمان آتے رہیں اور کھا کر جاتے رہیں، اس سے ایک ہی دن میں ولیمے کا پروگرام ہو جائے گا اور کوئی مسئلہ بھی پیش نہ ہوگا، دو دو مرتبہ دعوت کا انعقاد کی بھی ضرورت نہ پڑے گی۔

البتہ اگر کوئی دو ولیمے کرنا چاہتا ہو جیسے جگہ کی تنگی کی وجہ سے یا دو الگ الگ جگہ (ایک آبائی شہر  میں  اور دوسرا رہائشی شہر میں وغیرہ) اور اس میں نام و نمود کا کوئی پہلو نہ ہو تو اس کی بھی اجازت ہے، اس میں کوئی حرج نہیں، البتہ رخصتی کے بعد تین دن تک جو ولیمے کی دعوت کی جائے گی وہ ولیمہ مسنونہ کہلائے گا اس کے بعد ولیمہ مسنونہ  نہ ہوگا بلکہ محض دعوت ہوگی۔

فتاوی عالمگیریہ میں ہے:

"ووليمة العرس سنة، وفيها مثوبة عظيمة وهي إذا بنى الرجل بامرأته ينبغي أن يدعو الجيران والأقرباء والأصدقاء ويذبح لهم ويصنع لهم طعاما، وإذا اتخذ ينبغي لهم أن يجيبوا، فإن لم يفعلوا أثموا قال عليه السلام: من لم يجب الدعوة، فقد عصى الله ورسوله، فإن كان صائما أجاب ودعا، وإن لم يكن صائما أكل ودعا، وإن لم يأكل أثم وجفا ، كذا في خزانة المفتين ولا بأس بأن يدعو يومئذ من الغد وبعد الغد، ثم ينقطع العرس والوليمة، كذا في الظهيرية."

(کتاب الکراھیة، الباب الثاني عشر في الهدايا والضيافات، ج: 5، ص: 343، ط: المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر)

منحۃ السلوک میں ہے:

"وعندنا: السنة هي الوليمة فقط؛ لقوله صلى الله عليه وسلم: "أولم ولو بشاة" رواه البخاري، وابن ماجه والوليمة: هي أن يدعو الجيران، والأقرباء، والأصدقاء، ويصنع لهم طعاما، ويذبح لهم وينبغي للرجل أن يجيب، وإن لم يفعل فقد أثم، لقوله صلى الله عليه وسلم: "إذا دعي أحدكم إلى وليمة عرس فليجب" رواه ابن ماجه ومحلها: أول اليوم؛ لقوله صلى الله عليه وسلم: "الوليمة أول يوم حق، والثاني معروف، والثالث رياء وسمعة."

(کتاب الکسب والادب، حکم الاطعمة فی المناسبات، ج: 4، ص: 292، ط: بدون)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

"سوال :ولیمہ کاوقت کب سے کب تک ہے؟الجواب حامدا ومصلیا:ولیمہ کاوقت شب زفاف کےبعد سے تین روز تک ہے۔کذافی الھدایۃ  "

( کتاب النکاح، باب العروس الولیمۃ،ج:22،ص: 489)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144803101037

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں