بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 ربیع الثانی 1448ھ 14 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میزان سیونگ اکاؤنٹ کا منافع فقراء کے لیے حاصل کرنے کا حکم


سوال

میزان سیونگ اکاؤنٹ سے منافع حاصل کر کے صدقہ کر دینا اور اس منافع کو اپنی ذات کے لیے استعمال نہ کرنا کیا صحیح ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ میزان سیونگ اکاؤنٹ سے منافع حاصل کرنا ناجائز ہےاوراس نیت سے مذکورہ بینک  سےمنافع حاصل کرنا  کہ فقراء کودے دیا جائے گا،یہ بھی ناجائزہے۔

صحیح مسلم میں ہے:

"عن ‌أبي حازم ، عن ‌أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « أيها الناس، ‌إن ‌الله ‌طيب لا يقبل إلا طيبا، وإن الله أمر المؤمنين بما أمر به المرسلين، فقال: {يا أيها الرسل كلوا من الطيبات واعملوا صالحا إني بما تعملون عليم}. وقال: {يا أيها الذين آمنوا كلوا من طيبات ما رزقناكم}، ثم ذكر الرجل يطيل السفر، أشعث أغبر يمد يديه إلى السماءيا رب يا رب، ومطعمه حرام، ومشربه حرام، وملبسه حرام، وغذي بالحرام، فأنى يستجاب لذلك." 

(کتاب الزکوۃ،‌‌ باب قبول الصدقة من الكسب الطيب وتربيتها، ج،3، ص،85، رقم،1015: ط:دارالطباعة العامریة)

فتاوی شامی میں ہے:

"والحاصل: أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لايحل له ويتصدق به بنية صاحبه."

(كتاب البیوع، مطلب فيمن ورث مالا حراما، ج،5، ص،99، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144803101035

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں