
میں نے عبداللہ نامی ایک شخص کو 83 لاکھ روپے قرض دیے تھے، لیکن وہ مقررہ وقت پر قرض واپس نہ کرسکا۔ اس نے مزید مہلت مانگی تو میں نے کہا کہ مجھے ان روپوں سے سونا خریدنا تھا، لیکن آپ نے بروقت رقم ادا نہیں کی۔ اس پر عبداللہ نے کہا کہ آپ مارکیٹ میں 83 لاکھ روپے کا سونا بک کروا دیں، آج کے ریٹ کے حساب سے ، اس وقت سونے کا ریٹ 4 لاکھ 18 ہزار روپے فی تولہ تھا، چنانچہ میں نے اس حساب سے 17 تولہ سونا بک کروا دیا، جس کی ادائیگی ایک ماہ بعد کرنا ضروری تھی، لیکن عبداللہ اس وقت بھی سونے کی رقم ادا نہ کرسکا، جس کی وجہ سے مجھے سونے کے ریٹ کا اضافی فرق، جو 82 ہزار روپے فی تولہ بنتا تھا، خود ادا کرنا پڑا۔ اس طرح میرے حساب کے مطابق عبداللہ کے ذمہ کل رقم 96 لاکھ 94 ہزار روپے ہوگئی۔
پھر عبداللہ نے مجھ سے کہا کہ آپ پریشان نہ ہوں، میں آپ کو پانچ ماہ بعد 17 تولہ سونا ہی لے کر دوں گا، خواہ اس وقت اس کی قیمت کچھ بھی ہو۔اب پوچھنا یہ ہے کہ آیا بیع کی یہ صورتیں شریعت کے مطابق درست ہیں یا ان میں کچھ خرابی ہے؟
دوسرا یہ بھی رہنمائی فرمادیں کہ اگر اس معاملے کو شرعاً اور دنیاوی لحاظ سے ٹھیک اور سنت کے مطابق کرنا ہو تو اس کی کیا صورت ہوگی، تاکہ مجھے بھی نقصان نہ ہو اور دینی لحاظ سے بھی گناہ نہ ہو؟
واضح رہے کہ قرض کا ضابطہ یہ ہے کہ جتنا قرض دیا جائے اتنا ہی واپس لیا جائے، قرض کی ادائیگی میں تاخیر یا کسی اور وجہ سے اصل قرض سے زائد رقم وصول کرنا جائز نہیں ہے، ایسی مشروط زیادتی سود کے حکم میں ہے۔
صورتِ مسئولہ میں سائل نے عبداللہ کو 83 لاکھ روپے قرض دیے تھے، لہٰذا عبداللہ کے ذمہ 83 لاکھ روپے ہی لازم ہیں۔ اگر عبداللہ ادائیگی کی قدرت کے باوجود ، قرض کی ادائیگی میں تاخیر کرتا رہا تو اس کا یہ عمل ناجائز اور ظلم تھا اور وہ گناہ گار ہوگا۔ البتہ سائل نے عبداللہ کے کہنے پر 83 لاکھ روپے کا جو سونا بک کروایا، اور اس کی وجہ سے سائل کو جو اضافی رقم ادا کرنا پڑی، اس رقم کا مطالبہ عبداللہ سے کرنا جائز نہیں ہے؛ کیوں کہ قرض کی ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے اصل قرض میں اضافہ کرنا سودی معاملہ ہے۔ اسی طرح 83 لاکھ روپے کے قرض کو ابھی سے 17 تولہ سونے میں تبدیل کرکے سونے کی ادائیگی پانچ ماہ بعد مقرر کرنا بھی جائز نہیں ہے۔
نیز روپے کے بدلے سونے کی خرید و فروخت بیعِ صرف ہے، جس میں مجلسِ عقد ہی میں قیمت اور سونے دونوں پر قبضہ ضروری ہے، لہٰذا ایک ماہ کے ادھار پر سونا خریدنے کا مذکورہ معاملہ بھی جائز نہیں تھا۔
حاصل یہ ہے کہ عبداللہ کے ذمہ 83 لاکھ روپے ہی قرض برقرار رہے گا؛ ادائیگی کے وقت وہ یہی رقم ادا کرے، یا اس وقت باہمی رضامندی سے اسی دن کے نرخ کے مطابق اس رقم کے عوض جتنا سونا آتا ہو، وہ سائل کو دے دے تو یہ بھی جائز ہے۔
صحیح البخاری میں ہے:
"مطل الغني ظلم."
(كتاب الحوالات، باب إذا أحال على ملي فليس له رد، 2/ :799، ط:دار ابن كثير)
بدائع الصنائع میں ہے:
"(وأما) الذي يرجع إلى نفس القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة على أن يرد عليه صحاحًا أو أقرضه وشرط شرطًا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه «نهى عن قرض جر نفعًا»؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا وعن شبهة الربا واجب، هذا إذا كانت الزيادة مشروطة في القرض."
(كتاب القرض، فصل في شرائط ركن القرض،7/ 395، ط:دار الكتب العلمية)
العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية میں ہے:
"(سئل) في رجل استقرض من آخر مبلغاً من الدراهم وتصرف بها ثم غلا سعرها فهل عليه رد مثلها؟
(الجواب): نعم ولا ينظر إلى غلاء الدراهم ورخصها كما صرح به في المنح في فصل القرض مستمداً من مجمع الفتاوى."
(كتاب البيوع، باب القرض، 1/ 279، ط:دار المعرفة)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"(وأما شرائطه) فمنها قبض البدلين قبل الافتراق كذا في البدائع سواء كانا يتعينان كالمصوغ أو لا يتعينان كالمضروب أو يتعين أحدهما ولا يتعين الآخر كذا في الهداية وفي فوائد القدوري المراد بالقبض ههنا القبض بالبراجم لا بالتخلية يريد باليد كذا في فتح القدير."
(كتاب الصرف، الباب الأول في تعريف الصرف وركنه وحكمه وشرائطه، 3/ 217، ط:رشیدیة)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144803101029
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن