بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جنازے کی نماز کے بعد اجتماعی طور پر ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کا شرعی حکم


سوال

ہمارے علاقے میں نمازِ جنازہ کے بعد امام صاحب ہاتھ اٹھا کر لمبی اجتماعی دعا کرتے ہیں اور سب لوگ آمین کہتے ہیں؛ اگر کوئی امام دعا نہ کرائے تو لوگ اعتراض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ہمارے باپ دادا کا رواج ہے، پچاس ساٹھ سال سے چلا آ رہا ہے۔ اس بارے میں شریعت کا حکم دلائل کے ساتھ بتا دیں۔

جواب

 جنازہ کی نماز خود دعا ہے اور اس میں میت کے لیے مغفرت کی دعا کرنا ہی اصل ہے؛ جنازہ کی نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا قرآن و سنت، صحابہ، تابعین، تبع تابعین اور ائمہ مجتہدین رضی اللہ عنہم سے ثابت نہیں ہے، اس لیے جنازہ کی نماز کے بعد اجتماعی طور پر ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا مکروہ و ممنوع اور بدعت ہے، ہاں انفرادی طور پر کوئی بھی شخص ہاتھ اٹھائے بغیر دل ہی دل میں دعا کر لے تو جائز ہے۔

باقی محض علاقے کا رواج ہونا یا برسوں سے چلے آنا کسی عمل کے شرعاً ثابت ہونے کی دلیل نہیں؛ لہٰذا سائل کو چاہیے کہ لوگوں کو حکمت و نرمی کے ساتھ مسئلہ سمجھائے، اور اس رسم کو ترک کرے۔

مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح میں ہے:

 "ولا يدعو للميت بعد صلاة الجنازة؛ لأنه يشبه الزيادة في صلاة الجنازة."

(كتاب الجنائز، باب غسل الميت وتكفينه: المشي بالجنازة والصلاة عليها، ج:3، ص:1213، ط: دار الفكر)

المحیط البرہانی في الفقہ النعماني میں ہے:

"ولا يقوم الرجل بالدعاء بعد صلاة الجنازة؛ لأنه قد دعا مرة، لأن أكثر صلاة الجنازة الدعاء."

(كتاب الصلاة، الفصل الثاني والثلاثون في الجنائز، ج:2، ص:205، ط: دار الكتب )

خلاصۃ الفتاویٰ میں ہے:

 "لا يقوم بالدعاء في قراءة القرآن لأجل الميت بعد صلاة الجنازة."

(كتاب الصلاة، الجنس الآخر في صلاة الجنائز، ج:1، ص:225، ط: امجد اكادمي - لاهور، رشيديه)

کفایت المفتی میں ہے:

”نماز جنازہ کے بعد متصل ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے کا شریعت میں کوئی ثبوت نہیں ہے اور نماز جنازہ خود ہی دعا ہے، ہاں لوگ اپنے اپنے دل میں بغیر ہاتھ اٹھائے دعائے مغفرت کرتے رہیں تو یہ جائز ہے، اجتماعی دعا ہاتھ اٹھا کر کرنا بدعت ہے۔“

 (کتاب الجنائز، ج:4، ص:97، ط: دار الاشاعت - کراچی)

فتاویٰ محمودیہ میں ہے:

”سوال: بعض لوگ نماز جنازہ کے بعد بیٹھ کر دعا مانگتے ہیں، اس کا کیا حکم ہے، درست ہے یا نہیں؟ جواب: یہ ثابت نہیں، قرآن کریم، حدیث شریف اور کتب فقہ میں کہیں اس کا حکم نہیں دیکھا، حالانکہ چھوٹے چھوٹے مستحبات بھی کتب فقہ میں مذکور ہیں، بلکہ بعض کتب میں نماز جنازہ کے بعد دعا کو منع کیا گیا ہے، اس لیے کہ نماز جنازہ خود میت کے لیے دعا ہے۔“

 (کتاب الجنائز، ج:8، ص:708، ط: ادارۃ الفاروق - کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144803101009

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں