بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 ربیع الاول 1448ھ 06 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

والدہ کو ہبہ کیے گئے سونے کی بیوہ اور اولاد کی جانب سے واپسی کا مطالبہ کرنے کا حکم


سوال

ایک شخص نے اپنی والدہ کو کچھ سونا بصورت زیور گفٹ کیا تھا اور وہ سونا تمام اختیارات کے ساتھ والدہ کے حوالے بھی کیا تھا، والدہ اس کو استعمال کرتی رہی، پھر اس میں سے کچھ سونا والدہ نے اپنی زندگی میں اپنی بیٹیوں کو گفٹ کیا اور ہر ایک کو تمام اختیارات کے ساتھ حوالے بھی کیا، گفٹ کرنے والے کا تقریبا 25 سال پہلے انتقال ہو گیا۔

 اب اس شخص کی بیوہ اور بیٹے یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے والد مرحوم نے اپنی زندگی میں اپنی والدہ کو جو سونا گفٹ کیا تھا وہ ہمیں واپس کر دیں، والدہ یعنی جن کو سونا گفٹ کیا گیا تھا ان کا انتقال ابھی ہوا ہے۔

 سوال یہ ہے کہ گفٹ کرنے والے کی بیوہ اور اس کے بچوں کا گفٹ کی واپسی کا مطالبہ کرنا کیسا ہے؟ جب کہ سونا آج سے تقریبا 30 سال پہلے گفٹ کیا گیا تھا۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً بیٹے نے اپنی والدہ کو سونا ہدیے کے طور پر دیا تھا اور اس کا قبضہ بھی دے دیا تھا تو ایسی صورت میں اس سونے کی مالکہ والدہ مرحومہ تھیں اور انہوں نے اگر وہ سونا اپنی بیٹیوں کو دیا تو وہ سونا والدہ کی ملکیت سے نکل کر ان کی بیٹیوں کی ملکیت میں داخل ہو گیا، اب اگر گفٹ کرنے والے کی بیوہ اور اولاد اس سونے کا مطالبہ کرتے ہیں تو ان کا مطالبہ کرنا شرعا درست نہیں ہے، ان کو اس مطالبہ کا کوئی حق نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وحكمها ثبوت الملك للموهوب له غير لازم) فله الرجوع والفسخ."

(کتاب الهبة، ج:5، ص:688، ط:سعید)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"ليس له حق الرجوع بعد التسليم في ذي الرحم المحرم وفيما سوى ذلك له حق الرجوع إلا أن بعد التسليم لا ينفرد الواهب بالرجوع بل يحتاج فيه إلى القضاء أو الرضا."

(كتاب الهبة، الباب الخامس، جلد:4، صفحه:385، طبع: دار الفكر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144803100990

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں