بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

26 ربیع الاول 1448ھ 09 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزانہ صبح سویرے مسجد میں نفلی صدقہ دینے کا حکم


سوال

میں روزانہ صبح اپنی استطاعت کے مطابق ساتھ والی مسجد میں جہاں نماز پڑھنے جاتا ہو وہاں موجود مسجد کے گلے میں کچھ نا کچھ ڈال دیتا ہوں صدقے کی نیت سے کیا ایسا صدقہ کرنا جائز ہے ۔؟

جواب

صورت مسئولہ میں روزانہ اپنی استطاعت کے مطابق مسجد میں موجود گلے/چندہ بکس میں کچھ رقم اللہ تعالیٰ کی رضا اور صدقہ کی نیت سے ڈالنا جائز اور باعثِ اجر ہے۔ نفلی صدقہ کے لیے شریعت میں کوئی مخصوص دن مقرر نہیں، لہٰذا آدمی روزانہ بھی اپنی استطاعت کے مطابق نفلی صدقہ کرسکتا ہے۔تاہم واجبی صدقہ مسجد میں دینا جائز نہیں ، کیونکہ واجبی صدقات کا مصرف مستحقین زکات افراد  ہیں ،لہٰذا مسجد کے چندہ بکس میں واجبی صدقہ نہ ڈالا جائے۔
نیز تھوڑا عمل اگر پابندی اور اخلاص کے ساتھ کیا جائے تو وہ بھی اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ ہے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

صحیح البخاری میں ہے :

"عن عائشة رضي الله عنها، أنها قالت: سئل النبي صلى الله عليه وسلم: أي الأعمال أحب إلى الله؟ قال: "أدومها وإن قل"، وقال: "اكلفوا من الأعمال ما تطيقون".

(کتاب الدعوات،باب القصد والمداومة على العمل ج:8،ص:274،ط:دار التأصيل)

ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے، اگرچہ تھوڑا ہو۔

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144803100974

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں