
ہم بکریوں کی ایک خاص نسل پالتے ہیں اور پھر انہیں فروخت کرتے ہیں۔ جس بکرے کے سینگ نکل آتے ہیں اس کی قیمت کم ہوجاتی ہے، جب کہ بغیر سینگ والا بکرا زیادہ قیمت میں فروخت ہوتا ہے۔ بکری کے بچے کی پیدائش کے تقریباً ایک دو ماہ کے اندر علامات سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ اس کے سینگ نکلیں گے؛ چنانچہ سینگ نکلنے سے پہلے سینگوں کی جگہ ایک خاص قسم کی دوا لگاتے ہیں، جس سے جانور کو کچھ تکلیف ہوتی ہے اور سینگوں کا گودا بالکل ختم ہوجاتا ہے۔ بعض اوقات بچہ زمین پر سر رگڑ کر دوا ہٹا دیتا ہے، جس کی وجہ سے اس کا ایک سینگ نکل آتا ہے۔
1: اس طرح دوا کے ذریعے سینگ نکلنے سے روکنا شرعاً کیسا ہے؟
2: اس عمل کے بعد اس جانور کی قربانی کا کیا حکم ہوگا؟
3: اس طرح سینگ ختم کرکے جانور کو مہنگے داموں فروخت کرنا کیا دھوکے میں شمار ہوگا؟
واضح رہے کہ خوب صورتی کی غرض سے بے زبان جانوروں کے سینگ جڑ سے نکالنا یا ان کو کاٹنا ، یا دوا کے ذریعے ان کے گودے کو ختم کرنا جس جانور کو تکلیف پہنچے ، یہ جانور کو غیر ضروری اذیت دینا ہے، اس لیے اس عمل سے اجتناب کرنالازم هے، جن جانوروں کے سینگ اللہ تعالیٰ نے بنائے ہیں ، ان کی خوب صورتی بھی سینگ کے ساتھ ہی ہے، اور قیامت کے دن جانوروں کے سینگ كے بدلے بھی ثواب ملے گا اور یہ بھی میزان میں وزن کیے جائیں گے، لہذا خوب صورتی پیدا کرنے کے لیے سینگ ختم کرنے کا رواج درست نہیں، جانوروں کی تکلیف پہنچانے کے اس عمل کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔
1۔ صورتِ مسئولہ میں بکری کے بچے کے سینگ نکلنے سے پہلے سینگوں کی جگہ ایسی دوا لگانا جس سے اسے تکلیف پہنچتی ہو اور سینگوں کا گودا ختم ہوجاتا ہو، محض اس مقصد سے کہ جانور بے سینگ رہے اور زیادہ قیمت میں فروخت ہو، جانور کو تکلیف دینا شرعاً جائز نہیں ہے؛ کیوں کہ یہ جانور کو بلا ضرورت اذیت پہنچانا ہے۔
2۔ اگر بکری کے بچے کے سینگ نکلنے سے پہلے مذکورہ دوا لگائی جائے ، جس کی وجہ سے بعد میں سینگ نہ نکلیں، تو محض سینگ نہ نکلنے کی وجہ سے اس جانور کی قربانی ناجائز نہیں ہوگی، اسی طرح اگر دوا ہٹ جانے کی وجہ سے ایک سینگ نکل آئے اور دوسرا نہ نکلے تو بھی قربانی درست ہے۔ البتہ اگر دوا کے اثر سے سینگ کی جڑ میں ایسا گہرا نقصان ہوجائے جو دماغ تک پہنچ جائے یا سینگ جڑ سے کاٹے یا اکھاڑے گئے ہوں اور اس کا اثر دماغ تک پہنچ گیا ہو تو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں ہوگی۔
3۔ جانور کے سینگ دوا سے ختم کرکے اسے زیادہ قیمت پر فروخت کرنا بذاتِ خود دھوکا نہیں ہے۔ البتہ اگر خریدار کو یہ سمجھایا جائے کہ جانور پیدائشی طور پر بے سینگ ہے، یا حقیقت چھپائی جائے، تو یہ دھوکا ہوگا اور جائز نہیں ہوگا۔
فيض القدير میں ہے:
"(لعن الله من مثل بالحيوان) أي صيره مثلة بضم فسكون بأن قطع أطرافه أو بعضها وهو حي وفي رواية بالبهائم واللعن دليل التحريم."
(حرف اللام، 5 / 276 ، المكتبة التجارية الكبرى - مصر)
فتاوی شامی میں ہے:
"قوله: ويضحي بالجماء هي التي لا قرن لها خلقة، و كذا العظماء التي ذهب بعض قرنها بالكسر أو غيره، فإن بلغ الكسر المخ لم يجز. قهستاني. و في البدائع: إن بلغ الكسر المشاش لايجزي، و المشاش رؤس العظام مثل الركبتين و المرفقين."
(كتاب الأضحية، 6/ 323، ط: سعيد)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"و يجوز بالجماء التي لاقرن لها و كذا مكسورة القرن، كذا في الكافي. وإن بلغ الكسر المشاش لايجزيه، و المشاش رؤس العظام مثل الركبتين و المرفقين، كذا في البدائع".
(كتاب التضحية، الباب الخامس في بيان محل إقامة الواجب، 5 / 297، ط: رشيدية)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144803100947
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن