
لڑائی کے بعد میں نے غصے کی حالت میں: " تو فارغ ہے ساڈے الوں"(ترجمہ: تو فارغ ہے ہماری طرف سے) دو سے تین مرتبہ کہا،اس وقت بیوی سامنے تھی ،اور بہن اور ماں بھی تھیں مگرکسی نے سنا نہیں۔طلاق کی نیت یاد نہیں، کبھی لگتا ہے تھی اور کبھی لگتا ہے کہ نہیں تھی، عام گفتگو میں یہ الفاظ استعمال کرتا ہوں" تو فارغ ہے ،تو میرے کاغذوں میں فارغ ہے" غصے میں خود سے بولنے لگتا ہوں، کیا طلاق واقع ہوگی؟
صورت مسئولہ میں سائل نے اگر مذکورہ الفاظ " تو فارغ ہے ساڈے الوں" طلاق کے مذاکرے میں کہے تھے( یعنی اس مجلس میں یہ الفاظ کہنے سے پہلے بیوی کی طرف سے طلاق کا مطالبہ ہوا تھا، یا سائل نے طلاق دینے کی نیت کی تھی)تو اس صورت میں مذکورہ جملہ کہنے سے سائل کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہو جائے گی۔چاہے بیوی یا کسی اور نے سنا ہو یا نہ ہو۔ اور نکاح ٹوٹ جائے گا، اور دوبارہ ساتھ رہنے کے لیے نیا مہر مقرر کر کے شرعی گواہان کی موجودگی میں از سر نو نکاح کرنا ضروری ہوگا۔اور تجدید نکاح کی صورت میں آئندہ کے لیے شوہر(سائل) کو دو طلاقیں دینے کا اختیار ہوگا، البتہ اگر مذاکرہ طلاق میں یہ جملہ نہیں کہا تھا، اور سائل کی نیت طلاق دینے کی بھی نہیں تھی، تو اس صورت میں مذکورہ جملہ سے بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔
نیز ایک سے زیادہ مرتبہ یہ لفظ جو بولا، اس سے مزید طلاقیں واقع نہیں ہوں گی۔
نیز عام گفتگو میں سائل اگر یہ الفاظ " تو فارغ ہے ،تو میرے کاغذوں میں فارغ ہے" بغیر نیت کے بولتا ہے، تو اس سے طلاق تو واقع نہیں ہوئی، البتہ ایسے الفاظ کہنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے :
"(الفصل الخامس في الكنايات) لايقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة. ثم الكنايات ثلاثة أقسام: (ما يصلح جوابا لا غير) أمرك بيدك، اختاري، اعتدي (وما يصلح جوابا وردا لا غير) اخرجي اذهبي، اعزبي، قومي، تقنعي، استتري، تخمري (وما يصلح جوابا وشتما) خلية، برية، بتة، بتلة، بائن، حرام، والأحوال ثلاثة (حالة) الرضا (وحالة) مذاكرة الطلاق بأن تسأل هي طلاقها أو غيرها يسأل طلاقها (وحالة) الغضب، ففي حالة الرضا لايقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية والقول قول الزوج في ترك النية مع اليمين، وفي حالة مذاكرة الطلاق يقع الطلاق في سائر الأقسام قضاء إلا فيما يصلح جواباً ورداً فإنه لايجعل طلاقا كذا في الكافي وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم كقوله: اعتدي واختاري وأمرك بيدك فإنه لايصدق فيها كذا في الهداية. وألحق أبو يوسف - رحمه الله تعالى - بخلية وبرية وبتة وبائن وحرام أربعة أخرى ذكرها السرخسي في المبسوط وقاضي خان في الجامع الصغير وآخرون وهي لا سبيل لي عليك، لا ملك لي عليك، خليت سبيلك، فارقتك ولا رواية في خرجت من ملكي، قالوا هو بمنزلة خليت سبيلك، وفي الينابيع ألحق أبو يوسف - رحمه الله تعالى - بالخمسة ستة أخرى وهي الأربعة المتقدمة وزاد خالعتك والحقي بأهلك هكذا في غاية السروجي."
(کتاب الطلاق،الباب الثانی فی ایقاع الطلاق،ج:۱،ص:۳۷۴،۳۷۵،دارالفکر)
وفيه أيضا:
" إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها ".
( کتاب الطلاق ،الباب السادس فی الرجعة، ج:1، ص : 472، ط:رشیدیه)
الدر المختارمیں ہے:
"(الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة (والبائن يلحق الصريح) الصريح ما لا يحتاج إلى نية بائنا كان الواقع به أو رجعيا فتح... (لا) يلحق البائن (البائن)".
وفی الرد:
"(قوله لا يلحق البائن البائن) المراد بالبائن الذي لا يلحق هو ما كان بلفظ الكناية لأنه هو الذي ليس ظاهرا في إنشاء الطلاق كذا في الفتح، وقيد بقوله الذي لا يلحق إشارة إلى أن البائن الموقع أولا أعم من كونه بلفظ الكناية أو بلفظ الصريح المفيد للبينونة كالطلاق على مال، وحينئذ فيكون المراد بالصريح في الجملة الثانية أعني قولهم فالبائن يلحق الصريح لا البائن هو الصريح الرجعي فقط دون الصريح البائن".
(كتاب الطلاق، باب الكنايات، 3/ 308- 306، ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144803100943
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن