بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الثانی 1448ھ 16 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مدرس کا اپنے پیسوں سے کتابیں خرید کر مدرسے کے طلبہ کو نفع کے ساتھ فروخت کرنا


سوال

جنوری 2023ء میں میرے ایک دوست نے مجھے ایک مدرسے میں دوپہر کے اوقات، یعنی 3 بجے سے ساڑھے 4 بجے تک، اسکول کا کام دیکھنے کے لیے لگوایا۔ اس وقت مدرسے کے مہتمم اور ناظم صاحب نے میرا مشاہرہ 12,000 روپے طے کیا تھا، اور ساتھ یہ بھی طے ہوا تھا کہ دوپہر کا کھانا مدرسے کی طرف سے دیا جائے گا۔ لیکن پہلے ہی مہینے میں مجھے کہا گیا کہ ہم آپ کو 12,000 روپے نہیں دے سکتے، آپ 10,000 روپے لے لیں، اور کھانا بھی نہیں دیا گیا۔

میری مجبوری تھی، اس لیے میں پڑھاتا رہا۔ اس کے بعد مجھے کہا گیا کہ اسکول کا سارا نظام آپ کے پاس ہے، آپ ہی اسے چلائیں اور تمام کام خود کریں۔ مجھ سے پہلے جو استاد کتابیں پڑھا رہے تھے، میں نے بھی وہی کتابیں جاری رکھیں اور ان میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ شروع میں ناظم صاحب خود اپنی بائیک پر مجھے بازار لے کر گئے اور کاپیاں وغیرہ لے آئے۔

اس کے بعد جب بھی کتابیں یا کاپیاں لانی ہوتیں، مدرسے والے کوئی کام نہیں کرتے تھے۔ جب مہتمم صاحب سے کتابوں، کاپیوں وغیرہ کے بارے میں کہا تو انہوں نے کہا: "یہ سب کام آپ خود کریں، اسکول کا سارا نظام آپ کے پاس ہی ہے۔"اس کے بعد جب میں نے کتابیں وغیرہ خریدنے کے لیے رقم کا مطالبہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس رقم نہیں ہے، آپ طلبہ سے رقم لے لیں، اور جب رقم جمع ہو جائے تو لے آئیے گا۔

مجھے اس کام میں نفع نظر آیا، اس لیے بعض دفعہ  میں نے کسی شخص سے ادھار رقم لے کر کتابیں وغیرہ خرید کر طلبہ کو فروخت کر دیں۔ اور بعض دفعہ کتاب والوں  کو فون کرکے کتابیں ادھار  منگوا کر طلبہ کو فروخت کر دیتا اور بعد میں کتاب  والوں کو ان کی رقم ادا کرتا تھا۔

پیپر وغیرہ بھی مجھے خود تیار کرنے ہوتے تھے اور ان کی فوٹو کاپی کروانے کے لیے بھی مجھے خود جانا پڑتا تھا۔ ایک مرتبہ میں نے مہتمم صاحب سے کہا کہ کتابوں وغیرہ کی خرید و فروخت میں جو رقم  بچے ہیں، کیا یہ میں رکھ لوں؟ تو انہوں نے کہا: "ٹھیک ہے۔"

اردو بازار سے کتابیں وغیرہ لانا، طلبہ کو فراہم کرنا اور اس سلسلے کے تمام کام خود کرنا میرے ذمہ تھا۔ چنانچہ میں نے ناظم صاحب کو یہ بتا دیتا تھا کہ اتنی رقم کی کتابیں وغیرہ آئی ہیں اور ان میں اتنا نفع ہوا ہے۔ اسی نفع میں سے طلبہ کو امتحان میں کامیابی کے بعد ہدیہ بھی دیا کرتا تھا۔ پیٹرول وغیرہ کے تمام اخراجات بھی اسی نفع سے پورے کرتا تھا۔

اس نفع میں سے میں اپنے لیے بھی حصہ رکھ لیتا تھا، جو میرے اندازے کے مطابق تین سالوں میں تقریباً 25,000 سے 30,000 روپے بنتا ہے۔

تو سوال یہ ہے کہ نفع کی  اس رقم کے بارے میں کیا حکم ہے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل  کتابیں کاپیاں اگر اپنی ذاتی رقم سے یا ادھار خریدتا ہے اور پھر طلبہ کو نقد فروخت کرتا ہے، تو اس صورت میں ہونے والا نفع رکھنا سائل کے لیے جائز ہوگا۔ 

المبسوط للسرخسي میں ہے:
"فكان بمنزلة من اشترى شيئا وقبضه، ثم باعه وربح فيه فالربح يطيب له؛ لأنه ربح على ملك حلال له."

(كتاب الإجارات،  باب إجارة الدور والبيوت، ج: 15، ص: 130، ط: دار المعرفة  بيروت، لبنان)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

"بازار سے خریدی ہوئی دوا کو اپنی بتا کر نفع زیادہ لینا....
الجواب حامداً ومصلياً:ہمدرد کا اگر وہ ایجنٹ نہیں، بلکہ اپنے پیسے سے خرید کر مالک ہوکر دوائیں فروخت کرتا ہے اور نفع لیتا ہے تویہ درست ہے  ۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم ۔حرره العبد محمود غفر له، دارالعلوم دیو بند۔"
   (كتاب البيوع، باب المتفرقات، ج: 16، ص: 176، ط: جامعہ فاروقیہ کراچی)

فتاوی دار العلوم دیوبند (افاداتِ مفتی عزیز الرحمن عثمانیؒ)  میں ہے: 

"جو شخص کسی کے کہنے پر کتابیں خرید کر لاتا ہے وہ نفع لے سکتا ہے یا نہیں؟

 سوال: (۲۷۳)   فدوی ایک مدرسہ دیہات میں ملازم ہے، سالا نہ جماعت بندی کے وقت تمام طلبہ کی کتب میسر کرنے کے واسطے ان کے والدین فدوی سے کہہ دیتے ہیں کہ تم ہی خرید کر لا دو اور ان کو دیدو ، اگر ان لوگوں سے کچھ رقم کم و بیش پیشگی لے لی جائے ، اور اس رقم کو علیحدہ رکھ دیا جائے ، اور ان کو کہہ دیا جائے کہ کمی بیشی کا حساب کتاب کر لیا جائے گا ، اب فدوی اپنے مبلغات سے کتب وغیرہ سامان خرید کر لائے ، ان کی رقم سے نہ خریدے تو کیا فدوی ان میں نفع لے سکتا ہے یا نہیں؟ اور اگر اسی رقم سے کتب خرید کی جائیں تب بھی نفع لے سکتا ہے یا نہیں ؟ (۱۳۰۴/ ۱۳۳۸ھ )

 الجواب : ان کے روپے علیحدہ رکھ کر کتب وغیرہ خرید لانا، اور پھر حساب کر کے ان کے روپے میں سے لے لینا ہر طرح جائز ہے، لیکن اگر ان لڑکوں یا ورثہ کی طرف سے وکیل بن کر آپ خریدنے گئے ہیں تو کچھ نفع لینا جائز نہ ہوگا ، مصارف اور کرایہ وغیرہ کا مضائقہ نہیں ، اور اگر ان سے ظاہر کر دیا جائے کہ میں خرید کر لایا ہوں،  اس قیمت پر تم کو دیتا ہوں تو نفع لینا جائز ہوگا ، اور یہ بتلانے کی ضرورت نہیں کہ میں نے کس قیمت پر خرید کی ہے۔ فقط۔"

(خرید وفروخت کا بیان، ج: 14، ص: 404، ط: مکتبہ دار العلوم دیوبند) 

امداد المفتیین میں ہے: 

"مدرس کالڑکوں کے ہاتھ کتابیں فروخت کرنا

(سوال ٧٣٦) مدرسین اسکول بازار سے لڑکوں کے لئے اشیائے ضروری کتابیں وغیرہ خرید کر لاتے ہیں اور نفع لگا کر ان کے ہاتھ فروخت کرتے ہیں یہ جائز ہے یا نہیں ؟

(الجواب) اس صورت میں اگر مدرس لڑکوں سے کہے کہ لاؤ میں تمہیں یہ چیزیں خرید کر لادوں یا لڑ کے کہیں کہ آپ بازار سے خرید کر ہمیں یہ چیزیں لادیں تاکہ ہمیں خسارہ نہ ہو تو آپ لڑکوں کے وکیل ہیں اور وکیل کو بیچ میں کوئی نفع لینا جائز نہیں بلکہ جس قیمت سے خریدیں گے اسی قیمت سے لڑکوں کو دینا پڑے گا خواہ قیمت پیشگی دی ہو یا نہ دی ہو اور اگر یوں کہے کہ یہ چیزیں میں فروخت کرتا ہوں تم مجھ سے لے لو تواب اس کو اختیار ہے کہ جتنا چاہے نفع لگا کر دے خواہ پیشگی قیمت دیں یا نہ دیں وہذا ظاہر ۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ "

(كتاب البيوع، ج: 2، ص: 701، ط: دار الاشاعت كراچی)

فقط واللہ اعلم


    فتویٰ نمبر : 144803100917

    دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



    تلاش

    سوال پوچھیں

    اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

    سوال پوچھیں