
میرے سسر صاحب کے گھر کی چھت خالی تھی۔ میں کرائے کے گھر میں رہتی تھی۔ سسر صاحب نے کہا کہ کرائے کا گھر چھوڑ دو اور میرے گھر کی چھت پر اپنے لیے گھر بنا لو، یہ گھر آپ کا ہوگا۔
میرے پاس تعمیرات کا خرچہ نہیں تھا۔ سسر صاحب نے کہا کہ اپنے زیورات فروخت کرکے تعمیر کروا لو، میں ایک دو سال میں آپ کے زیورات دوبارہ بنوا کر دے دوں گا۔ میں نے اپنے زیورات، یعنی آٹھ تولہ سونا، اپنے سسر کو دے دیا۔ انہوں نے وہ سونا فروخت کرکے گھر کی تعمیر کروا دی اور پھر گھر میرے حوالے کر دیا۔
بعد ازاں میرے سسر کا انتقال ہوگیا، لیکن میرا سونا اب تک مجھے واپس نہیں ملا، جبکہ میں مذکورہ گھر میں رہائش پذیر ہوں۔
اب میرے سسرال والے کہہ رہے ہیں کہ گھر فروخت کرکے ہمیں ہمارا حصہ دے دو۔ میرا مطالبہ یہ ہے کہ یہ گھر تو میرے سسر نے مجھے دیا تھا، اس کے علاوہ میں اپنے آٹھ تولےسونے کامطالبہ کررہی ہوں۔
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعی سائلہ کے سسر نے باقاعدہ سائلہ کے ساتھ یہ معاہدہ کیا تھا کہ: ’’آپ اپنے زیورات فروخت کرکے میرے گھر کی چھت پر اپنا گھر تعمیر کرلیں، بعد ازاں میں آپ کے زیورات بنوا کر دے دوں گا‘‘، اور اسی معاہدے کے مطابق سسر مرحوم نے سائلہ کے زیورات کی رقم سے تعمیر شدہ گھر سائلہ کے حوالے بھی کردیا تھا، تو مذکورہ زیورات سسر کے ذمہ بطورِ دَین (قرض/واجب الادا حق) شمار ہوں گے، جبکہ گھر سائلہ کو حوالہ کرکے اس کے قبضے میں دے دینے کی صورت میں ہبہ بن کر سائلہ کی ملکیت قرار پائے گا۔
لہٰذا سسر کے انتقال کے بعد ان کے ورثاء کو مذکورہ گھر میں کسی قسم کے مطالبے یا دعوے کا حق نہیں ہوگا، جبکہ سائلہ اپنے زیورات کے عوض سسر مرحوم کے ذمہ واجب الادا دَین کا مطالبہ کرسکتی ہے۔
المبسوط للسرخسي میں ہے:
"ولو أمر غيره بالإنفاق عليه كان ما ينفق دينا عليه فكذلك إذا أمر القاضي به، والأصح ما ذكره في الكتاب أن يأمره على أن يكون دينا عليه لأن مطلقه محتمل قد يكون للحث والترغيب في إتمام ما شرع فيه من التبرع فإنما يزول هذا الاحتمال إذا اشترط أن يكون دينا له عليه فلهذا قيد الأمر."
(كتاب اللقيط،وشهادة اللقيط بعدما أدرك،ج:10،ص: 211،ط:دار المعرفة)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"ولو كانت الدار في يده بإجارة فوهب له البناء جاز، كذا في التتارخانية."
(كتاب الهبة،الباب الثاني فيما يجوز من الهبة وما لا يجوز،ج:4،ص: 380،ط:دارالفكر)
فتاوی شامی میں ہے:
"تجوز هبة حائط بين داره ودار جاره لجار، وهبة البيت من الدار فهذا يدل على كون سقف الواهب على الحائط واختلاط البيت بحيطان الدار لا يمنع صحة الهبة مجتبى."
وفي الحاشية:
"(قوله: تجوز هبة حائط إلخ) وفي الذخيرة: هبة البناء دون الأرض جائزة"
(كتاب الهبة،ج:5،ص: 698،ط:سعيد)
امداد الاحکام میں ہے:
"پس اگر باپ محض حق تعلی ہبہ نہ کرے،بلکہ سقف کو ہبہ کردے، تو ہبہ صحیح ہوجائے گا"
(کتاب الہبۃ،ج:4،ص:32،ط:دارالعلوم کراچی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144803100879
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن