بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

27 ربیع الاول 1448ھ 10 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اسائمنٹ یا تھیسس لکھوانے والی کمپنی میں کام کا حکم


سوال

میں آن لائن لیب رپورٹس، تھیسس، اسائنمنٹ کا کام کرتی ہوں۔ انڈیا کی ایک ٹیم ہے، وہ مختلف ملكوں خاص کر یو کے سے کام لیتی ہے اور ہم سے کرواتی ہے، میں نے ابھی تک صرف ایک کام کیا،  لیکن میرے ذہن میں ایک سوال ہے کہ کیا یہ حرام ہے؟ ہمیں نہیں پتہ ہوتا اور اگر اسٹوڈنٹ کہہ دے کہ میں اس کو دوبارہ لکھتا ہوں، میرے کام سے وہ ہیلپ لیتا ہے، تو ایسی صورت میں مجھے حلال لگتا ہے، مگر اگر اسٹوڈنٹ میرا بھیجا گیا کام ایسے ہی سبمٹ کر دے اپنا نام لگا کر، تو میں اس  دھوکے میں شریک ہو جاؤں گی؟ اگر ایسی لیب رپورٹس کے آخر میں ایک ڈسکلیمر لگا دیا جائے کہ یہ ہیلپ کے لیے ہے، آپ اس کو ری رائٹ کریں، تو کیا ایسا کرنے سے حلال ہو جائے گا؟

جواب

 واضح رہے کہ کسی بھی تعلیمی ادارے کی جانب سے طالبِ علم کو دیا گیا وہ کام جس  سے اس طالبِ  علم کی صلاحیت کا امتحان مقصود ہو، اس کی کارکردگی کا تعین ہو  اور اس کی بنیاد پر مستقبل میں اس طالب علم کو سند (Degree) جاری کی جاتی ہو ، ایسا تعلیمی کام طالبِ علم کے لیے بذاتِ خود سرانجام دینا لازم ہوتا ہے۔ورنہ مستقبل میں یہی طالبِ  علم  نا اہلی کے باوجود اس ڈگری کی بنیاد پر وہ سہولیات  حاصل کرے گا جو اصل ڈگری والوں کا حق ہے۔

لہذا ایسے اسٹوڈنٹ  کے لیےکسی کمپنی کو  اجرت  دے  کر اسائنمنٹ  (Assignment) ، مقالہ جات ، مضامین لکھوانا  جھوٹ ، دھوکا  دہی اور دوسروں کی حق تلفی میں شامل ہے،جو کہ جائز نہیں ۔

البتہ   اگر اسائمنٹ،مضامین یا مقالہ  طالب علم خود لکھے ،البتہ اس کی کمپوزنگ ڈیزائیننگ  یا  مضمون سے متعلق مواد کی فراہمی یا  کوئی اور ثانوی کام وہ کسی کمپنی سے کروائے تو اس طرح کا کام کرنا اور اس پر اجرت لینا جائز ہوگا ۔

لہذا صورت ِ مسئولہ میں سائلہ کے لیےجان بوجھ کر کسی اسٹوڈنٹ کا  تھیسس ، اسائمنٹ  لکھ کر اس پر اجرت لینا شرعا جائز نہیں ہے،  اگر چہ رپورٹ کے آخر میں یہ ڈسکلیمر بڑھادیا جائے کہ آپ اس کو دوبارہ لکھیں گے ،اس طرح کرنے سے بھی یہ کام جائز نہیں ہوگا ۔

الموافقات للشاطبى میں ہے:

"أن فعل المباح سبب في مضار كثيرة:- ومنها: أنه سبب في الاشتغال عن الواجبات، ووسيلة إِلى الممنوعات؛ .... والثانی : أنا إِذا نظرنا إِلى كونه وسيلة؛ فليس تركه أفضل بإِطلاق، بل هو ثلاثة أقسام: قسم يكون ذريعة إلى منهي عنه؛ فيكون من تلك الجهة مطوب الترك."

(کتاب الأحکام، ج1، ص176، ط:دار ابن عفان)

فتاوی شامی میں ہے :

"و الأجرة إنما تكون ‌في ‌مقابلة ‌العمل."

(کتاب النکاح ، باب المهر، ج:3، ص:156، ط:سعید)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144803100826

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں