
میری بیوی (جو کہ بذاتِ خود کراچی کی رہائشی ہے) نے لاہور کی عدالت میں یکطرفہ طور پر تنسیخِ نکاح کا مقدمہ دائر کیا۔ جس وقت یہ کیس دائر کیا گیا، میں کراچی میں موجود نہیں تھا بلکہ روزگار کے سلسلے میں دبئی میں مقیم تھا، جبکہ میری مستقل رہائش کراچی ہی میں ہے۔
مجھے اس تمام کارروائی کا کوئی علم نہ تھا۔ میری بیوی نے محض موبائل پر میسج کے ذریعے صرف یہ اطلاع دی کہ وہ کیس کر رہی ہے۔ بعد میں جب میں دبئی سے کراچی واپس آیا، تو اس نے مجھے موبائل پر یکطرفہ تنسیخِ نکاح کی ڈگری (عدالتی فیصلہ) کی تصویر ارسال کی (جس کی کاپیاں اس درخواست کے ساتھ منسلک ہیں)۔ نیز میری بیوی نے عدالت میں مجھ پر جھوٹے اور بے بنیاد الزامات عائد کیے ہیں جو عدالتی کاغذات میں درج ہیں۔
شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ مذکورہ صورتِ حال میں اس تنسیخ نکاح کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا ہمارا نکاح باقی ہے یا ختم ہوچکا ہے؟
واضح رہے کہ میاں بیوی میں ناچاقی کی صورت میں اگرنباہ کی کوئی صورت نہ بن پائے، نیز زیادتی شوہر کی طرف سے ہو،مثلاً: شوہر بیوی کا نان و نفقہ ادا نہ کر تا ہو، یا اس پرناقابلِ برداشت ظلم و ستم کر تا ہو،یا شوہر نامرد ہو،یا شوہر لاپتہ ہو تو ان تمام صورتوں میں شریعتِ مطہرہ نے متاثرہ خاتون کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ اپنے شوہر سے طلاق یا خلع کا مطالبہ کرے، اگر شوہر طلاق یا خلع دے دے تو بہتر، ورنہ خاتون کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ کسی مسلمان قاضی کی عدالت میں" فسخِ نکاح" کا مقدمہ دائر کرکے پہلے شرعی گواہوں کے ذریعہ اپنا نکاح ثابت کرے، اور پھر شوہر کے ظلم یا نفقہ کی عدمِ ادائیگی ،یا اس کے نامرد ہونے یا لاپتہ ہونے کو ثابت کر کے قاضی سے فسخِ نکاح کا مطالبہ کرے۔
اس کے بعد قاضی اس کے شوہر کو عدالت میں طلب کرے ۔ اگر شوہر عدالت میں حاضر ہو کر اپنے قصور کا اعتراف کر لے اور آئندہ نان و نفقہ ادا کرنے اور ظلم و ستم نہ کرنے کی یقین دہانی کرائے، تو قاضی ان کا نکاح برقرار رکھنے کا شرعا پابند ہوتا ہے،اور اگر عدالت کے طلب کرنے پر شوہر حاضر نہ ہو، یا حاضر ہو کر ظلم و زیادتی سے باز آنے پر آمادگی ظاہر نہ کرے یا شوہر اپنی روش تبدیل کرنے پر راضی نہ ہو ، تو ایسی صورت میں مسلمان قاضی کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ تحقیقِ حال اور گواہوں کی گواہی کی بنیاد پر نکاح کو فسخ کر دے، البتہ اگر بیوی نے اپنے دعوی کے ثبوت میں گواہ پیش نہیں کر سکے اور بیانِ حلفی پر اکتفاء کرے،جس کی بنیاد پر اس کے حق میں فسخِ نکاح کا فیصلہ کیا جائے ،تو ایسا فیصلہ شرعاً معتبر نہیں ہوتا۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل (شوہر) کی جانب سے فراہم کردہ دستاویزات کو پڑھنے کے بعد یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ سائل کی بیوی نے فسخِ نکاح کی مذکورہ بالا شرائط کا لحاظ نہیں رکھا، اورعدالت میں شرعی گواہوں کے ذریعے اپنے موقف کو ثابت نہیں کیا، اور محض عورت کے بیانِ حلفی کی بنیاد پر نکاح کو فسخ کیا گیا ،لہذا فسخِ نکاح کا مذکورہ فیصلہ شرعاً معتبر نہیں ہوگا،اور نکاح بدستور قائم رہے گا ،اور سائل کی بیوی کے لیے کسی اور سے نکاح کرنا حلال نہیں ہوگا۔
الفقہ الاسلامی وادلتہ میں ہے:
"الفسخ اصطلاحا: حل ارتباط العقد، أو هو ارتفاع حكم العقد من الأصل كأن لم يكن.....
والخلع يحدث بالتراضي، أما الفسخ فيمكن أن يتم بالتراضي أو بقضاء القاضي."
(القسم الثانى النظريات الفقهية، الفصل السادس: نظرية الفسخ، ج:4، ص:3149/3152، ط:دار الفكر)
حیلہ ناجزہ میں ہے :
"اور صورتِ تفریق یہ ہےکہ عورت اپنامقدمہ قاضی اسلام یامسلمان حاکم اوراُن کے نہ ہونے کی صورت میں جماعت المسلمین کے سامنے پیش کرے اور جس کے پاس پیش ہووہ معاملہ کی شرعی شہادت وغیرہ کے ذریعہ سے پوری تحقیق کرےاوراگر عورت کادعوٰی صحیح ثابت ہوکہ باوجود وسعت کے خرچ نہیں دیتاتو اس کے خاوندسے کہاجائے کہ اپنی عورت کے حقوق اداکرویاطلاق دو، ورنہ ہم تفریق کردیں گے۔اس کے بعد بھی اگر وہ ظالم کسی صورت پر عمل نہ کرے توقاضی یاشرعًاجواس کے قائم مقام ہوطلاق واقع کردے اس میں کسی مدت کے انتظارومہلت کی باتفاقِ مالکیہ ضرورت نہیں۔"
"والمتعنت الممتنع عن الإنفاق ففي مجموع الأمیر ما نصه : إن منعھا نفقة الحال فلها القیام فإن لم یثبت عسرہ أنفق أو طلق و إلا طلق علیه، قال محشیه : قوله وإلا طلق علیه أي طلق علیه الحاکم من غیر تلوم... إلى أن قال: وإن تطوع بالنفقة قریب أو أجنبي فقال ابن القاسم: لها أن تفارق لأن الفراق قد وجب لها، وقال ابن عبدالرحمن: لا مقال لها لأن سبب الفراق هو عدم النفقة قد انتهی وهو الذي تقضیه المدونة؛ کما قال ابن المناصب، انظر الحطاب، انتهی."
(ص:73،ط: دار الإشاعت)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144803100758
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن