
ایک لڑکی کی شادی ہونے والی ہے،اس کے گھر والے بارات میں آنے والے مہمانوں کے لئے ہال بک کروا کر ،ان کی دعوت کرنا چاہتے ہیں، بارات میں آنے والے مہمانوں کو کھانا کھلانے کا شرعا کیا حکم ہوگا؟
لڑکے والے کہتے ہیں کہ اس طرح لڑکی والوں کا بارات میں آنے والے مہمانو ں کو کھانا کھلانا خلاف سنت ہے!
رخصتی کے موقع پرلڑکے والوں کا باقاعدہ طور پر بارات لے جانا اور لڑکی والوں کی طرف سے ان کے لئے دعوت کا اہتمام کرنا ،نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ثابت نہیں ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا رخصتی کے بارے میں یہ بھی معمول تھا کہ لڑکی کاباپ یا ولی لڑکی کو تیار کرکے خود یا کسی اورمعتمد کے ہم راہ دولہا کے گھر پہنچا دیتا۔جیسا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی کے بارے میں واضح روایات ہیں کہ آپ کو ام ایمن رضی اللہ عنہا کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے گھر روانہ کیا گیا اور ظا ہر ہے کہ حضرت ام ایمن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آزاد کردہ باندی تھیں، نہ کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی،یعنی ام ایمن رضی اللہ عنہا لڑکی والوں کی طرف سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو چھوڑنے گئی تھیں، نہ کہ لڑکے والوں کی جانب سے لینے آئی تھیں۔
اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی کے بارے میں بخاری شریف کی روایت میں آتا ہے کہ آپ کی والدہ آپ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں پہنچا کر آئیں، نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود تشریف لے گئے تھے، نہ آپ نے کسی کو بھیجا تھا،اور یہ بھی ہوا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو دلہن کو لینے کے لیے بھیجا ہے،جیسا کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی شادی میں پیش آیا۔
لہذا صورت مسئولہ میں لڑکے والوں کو چاہئے کہ باقاعدہ بارات لے کر نہ جائیں ،بلکہ لڑکی کے والد یا کوئی محرم رشتہ دار اس کو لڑکے کے گھر چھوڑآئیں،یالڑکے کی طرف سے کچھ قریبی لوگ لڑکی کے گھر جاکر اس کو لے آئیں۔
تاہم اگر لڑکی والے نمود ونمائش سے بچتے ہوئے، کسی قسم کے مطالبہ اور خاندانی دباؤ کے بغیر اپنی خوشی ورضا سے رخصتی کے موقع پر دعوت کا اہتمام کریں، اپنے اعزہ اور آنے والے مہمانوں کوکھانا کھلائیں،تو اس طرح کی دعوت کا کھانا کھانا بارات والوں کے لیے مباح ہے،لیکن اگر لڑکی والے اس کو خاندانی رسم ورواج کی وجہ سے لازم سمجھیں یا کسی کے مطالبہ پر مجبور ہوکر یہ دعوت کریں تو یہ جائز نہیں ہوگا۔
اعلاء السنن میں ہے:
"قالت أم حبیبة زوج النبی صلي الله عليه وسلم: ... فقال: اجلسوا فإنّ سنة الأنبیاء علیهم الصلاة و السلام إذا تزوجوا أن یؤکل الطعام علی التزویج، فدعا بطعام فأکلوا ثم تفرقوا ...
قلت : و لیس ذلك بولیمة بل هو طعام التزویج، و یلتحق به ما تعارفه المسلمون من نثر التمر ونحوہ في مجلس النكاح. فقد روى البیهقي عن معاذ بن جبل بسند فیه ضعف و انقطاع: أن النبي صلي الله عليه وسلم حضر في املاك (أي نكاح) فأتي بطباق علیھا جوز و لوز و تمر، فنثرت فقبضنا أیدینا، فقال: ما بالكم لاتأخذون؟ فقالوا: لأنك نھیت عن النھبى! فقال: مما نھیتكم عن نھبى العساكر خذوا على اسم الله فجاذبنا وجاذبناہ."
(كتاب النكاح ، ج : 11 ، ص : 12 ، ط : إدارة القران والعلوم الإسلاميه كراتشي)
المعجم الکبیر للطبرانی میں ہے:
"عن أنس بن مالك قال: جاء أبو بكر إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقعد بين يديه، فقال: يا رسول الله قد علمت مناصحتي وقدمي في الإسلام، وإني وإني، قال: «وما ذلك؟» قال: تزوجني فاطمة، فسكت عنه أو قال: فأعرض عنه، فرجع أبو بكر إلى عمر فقال: هلكت وأهلكت قال: وما ذلك؟ قال: خطبت فاطمة إلى النبي صلى الله عليه وسلم فأعرض عني، فقال: مكانك حتى آتي النبي صلى الله عليه وسلم فأطلب مثل الذي طلبت، فأتى عمر النبي صلى الله عليه وسلم فقعد بين يديه، فقال: يا رسول الله قد علمت مناصحتي وقدمي في الإسلام، وإني وإني، قال: «وما ذاك؟» قال: تزوجني فاطمة، فأعرض عنه فرجع عمر إلى أبي بكر، فقال: إنه ينتظر أمر الله فيها، انطلق بنا إلى علي حتى نأمره أن يطلب مثل الذي طلبنا، قال علي: فأتياني وأنا في سبيل، فقالا: بنت عمك تخطب، فنبهاني لأمر، فقمت أجر ردائي طرف على عاتقي، وطرف آخر في الأرض حتى أتيت النبي صلى الله عليه وسلم، فقعدت بين يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقلت: يا رسول الله قد علمت قدمي في الإسلام ومناصحتي، وإني وإني، قال: «وما ذاك يا علي؟» قلت: تزوجني فاطمة، قال: «وما عندك» ، قلت: فرسي وبدني، يعني درعي، قال: «أما فرسك، فلا بد لك منه، وأما درعك فبعها» ، فبعتها بأربع مائة وثمانين فأتيت بها النبي صلى الله عليه وسلم فوضعتها في حجره، فقبض منها قبضة، فقال: " يا بلال، ابغنا بها طيبا، ومرهم أن يجهزوها، فجعل لها سريرا مشرطا بالشريط، ووسادة من أدم، حشوها ليف، وملأ البيت كثيبا، يعني رملا، وقال: «إذا أتتك فلا تحدث شيئا حتى آتيك» فجاءت مع أم أيمن فقعدت في جانب البيت، وأنا في جانب، فجاء النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: «ههنا أخي» ، فقالت أم أيمن: أخوك قد زوجته بنتك، فدخل النبي صلى الله عليه وسلم فقال لفاطمة: «ائتيني بماء» ، فقامت إلى قعب في البيت فجعلت فيه ماء فأتته به فمج فيه ثم قال لها: «قومي» فنضح بين ثدييها وعلى رأسها ثم قال: «اللهم أعيذها بك وذريتها من الشيطان الرجيم» ، ثم قال لها: «أدبري» ، فأدبرت فنضح بين كتفيها ثم قال: «اللهم إني أعيذها بك وذريتها من الشيطان الرجيم» ، ثم قال: «ائتيني بماء» فعملت الذي يريده، فملأت القعب ماء فأتيته به فأخذ منه بفيه، ثم مجه فيه، ثم صب على رأسي وبين يدي ثم قال: «اللهم إني أعيذه وذريته من الشيطان الرجيم» ثم قال: «ادخل على أهلك بسم الله والبركة."
(مسند النساء ، ذكر تزويج فاطمة رضي الله عنها ، ج : 22 ، ص : 408 ، ط : مكتبة ابن تيمية - القاهرة)
صحیح البخاری میں ہے:
"عن عائشة رضي الله عنها: " تزوجني النبي صلى الله عليه وسلم، فأتتني أمي فأدخلتني الدار، فإذا نسوة من الأنصار في البيت، فقلن : على الخير والبركة ، وعلى خير طائر."
(کتاب النکاح ، باب الدعاء للنساء اللاتي يهدين العروس وللعروس ، ج : 7 ، ص : 21 ، ط : السلطانیة)
الاستیعاب في معرفة الأصحاب میں ہے:
"وروی عن سعید عن قتادة أن النجاشي زوج النبي صلي الله عليه وسلم أم حبیبة بنت أبي سفیان رضي الله عنهما بأرض الحبشة وأصدق عنه بمائتي دینار ... (إلی أن قال) زوجها إیاه النجاشي وجهزها إلیه وأصدقها أربعمائة دینار، و أولم علیها عثمان بن عفان لحماً وثریداً وبعث إلیها رسول الله صلي الله عليه وسلم شرحبیل ابن حسنة فجاء بها ..." الخ
(باب الراء ، رملة بنت ابي سفيان رضي الله عنهما، ج : 4 ، ص : 1844 ، ط : دار الجيل)
مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ صاحب تحریر فرماتے ہیں :
”لڑکی والوں کی طرف سے براتیوں کو یا برادری کو کھانا دینا لازم یا مسنون اور مستحب نہیں ہے ، اگر بغیرالتزام کے وہ اپنی مرضی سے کھانا دے دیں تو مباح ہے، نہ دیں تو کوئی الزام نہیں۔“
(کفایت المفتی، ج:7 ، ص:471، باب العرس والولیمہ، ط: فاروقیہ)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144803100729
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن