
اسکوپ (Scoop) بزنس کے بارے میں شرعی حکم بتا دیں، جس کا طریقہ کار یہ ہے کہ ایک برتن میں زیورات اور اسٹیشنری کی مختلف اشیاء کے کوڈ والے موتی مکس رکھے ہوتے ہیں۔ گاہک ایک طے شدہ قیمت دے کر ایک بڑا چمچ (اسکوپ) بھر کر موتی نکالتا ہے اور چمچ میں جو موتی آتے ہیں، دکاندار ان کے کوڈ کے مطابق وہی چیزیں گاہک کو دے دیتا ہے۔ گاہک کو پہلے سے یہ فہرست معلوم ہوتی ہے کہ کون سا موتی کس چیز کا کوڈ ہے۔ کیا اسلام میں اس طرح سامان خریدنا اور بیچنا جائز ہے؟
صورت مسئولہ میں اسکوپ بزنس کا مذکورہ معاملہ شرعاً ناجائز ہے؛ کیونکہ یہ معاملہ قمار (جوا) اور بیع الغرر (دھوکے والی بیع) پر مشتمل ہے۔
دھوکے والی بیع اس طرح ہے کہ مبیع (بیچی جانے والی چیز) مجہول اور غیر متعین ہے،اور قمار (جوا) اس وجہ سے ہے کہ معلوم نہیں اسکوپ میں کتنے موتی نکلیں گے ،کم یا زیادہ،اور کم قیمت والی اشیاء کے کوڈ والے موتی نکلیں گے یا زیادہ قیمت والی اشیاء کے موتی،یعنی یہ معاملہ نفع اور نقصان کے درمیان متردد ہے اور ہر وہ معاملہ جو نفع اور نقصان کے درمیان متردد ہو وہ قمار میں داخل ہے۔
نیز یہ معاملہ بیع الحصاۃ (ایک سے زائد مبیع رکھے ہوئے ہوتے ہیں مشتری کنکر اٹھاکر پھینکتا ہے جس مبیع پر لگے اسی میں بیع لازم ہوجاتی ہے) کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے جو زمانۂ جاہلیت کی رائج بیوعات میں سے ایک بیع تھی اور آپ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"وعن أبي هريرة قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع الحصاة وعن بيع الغرر. رواه مسلم."
"ابو ہریرہ( رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ :" رسول اللہﷺ نے بیع الحصاۃ (کنکر پھینک کر بیع کرنے) اور بیع الغرر (دھوکے والی بیع ) سے منع فرمایا ہے۔روایت کیا ہے اس کو امام مسلم نے۔"
(كتاب البيوع، باب المنهي عنها من البيوع، الفصل الأول، ج: 2، ص: 865، رقم الحدیث: 2854، ط: المکتب الاسلامی بیروت)
شرح النووی علی مسلم میں ہے:
"وأما النهي عن بيع الغرر فهو أصل عظيم من أصول كتاب البيوع ولهذا قدمه مسلم ويدخل فيه مسائل كثيرة غير منحصرة كبيع الآبق والمعدوم والمجهول وما لا يقدر على تسليمه وما لم يتم ملك البائع عليه وبيع السمك في الماء الكثير واللبن في الضرع وبيع الحمل في البطن وبيع بعض الصبرة مبهما وبيع ثوب من أثواب وشاة من شياه ونظائر ذلك."
(كتاب البيوع، باب بطلان بيع الحصاة والبيع الذي فيه غرر، ج: 10، ص: 156، ط: دار إحياء التراث العربي بيروت)
لمعات التنقیح فی شرح مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"(أبو هريرة) قوله: (عن بيع الحصاة) وفي رواية: (عن بيع الحصا) مقصورا، الحصا: صغار الحجارة، والواحد حصاة، من البياعات التي كانت يفعلها أهل الجاهلية، قيل: كانوا يتساومون، فإذا طرح الحصاة وجب البيع، وقيل: بل كانوا يتبايعون شيئا من الأشياء على أن البيع يجب في الشيء الذي تقع عليه الحصاة، وقيل: بل إلى منتهى الحصاة، وكله من بيوع الغرر والمجهول، كذا في (مشارق الأنوار).
وقوله: (وعن بيع الغرر) غره غرا وغرورا وغرة بالكسر فهو مغرور وغرير: خدعه وأطمعه بالباطل فاغتر هو، والاسم الغرر، وبيع الغرر أصل جامع يشمل فروعا كثيرة وصورا شتى، وكل ما ذكر من بيع الملامسة والمنابذة والحصا ونحوها من أنواعه أفردت بالذكر لكونها من بياعات الجاهلية المشهورة، والغرر يكون للجهل بالمبيع أو ثمنه أو سلامته أو أجله."
(كتاب البيوع، باب المنهي عنها من البيوع، الفصل الأول، ج: 5، ص: 564، رقم الحدیث: 2854، ط:دار النوادر، دمشق)
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله لأنه يصير قمارا) لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص."
(كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، ج: 6، ص: 403، ط: سعيد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144803100705
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن