
میری صاحبزادی کی شادی تین مئی 2023 کو ہوئی تھی، شادی میں مہر کی صورت میں اور تحائف میں سونے کے زیورات ملے تھے جن کا وزن 53.90 گرام ہے، معلوم یہ کرنا ہے کہ اتنے وزن پر زکوۃ بنتی ہے یا نہیں؟ اگر بنتی ہے تو سالانہ کتنی بنتی ہے اور تین سال کی زکوۃ کتنی ہوگی؟
نوٹ: میری بیٹی کے پاس سونے کے علاوہ چاندی یا کیش وغیرہ موجود نہیں ہے۔
واضح رہے کہ اگر کسی کی ملکیت میں صرف سونا موجود ہو، دیگر اموالِ زکات( چاندی اور کیش وغیرہ) موجود نہ ہوں تو ایسی صورت میں زکات کے فرض ہونے کے لیے سونے کا نصاب ساڑھے سات تولہ سونا ہے،جو وزن کے اعتبار سے(87.48گرام)بنتے ہیں۔لہٰذا صورت مسئولہ میں اگر آپ کی بیٹی کے پاس موجود سونا 53.90 گرام ہے تو چوں کہ یہ مقدار سونے کے نصاب یعنی ساڑھے سات تولہ (87.48گرام) سے کم ہے اس لیے اتنے سونے پر زکات واجب نہیں ہوئی۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(نصاب الذهب عشرون مثقالا والفضة مائتا درهم كل عشرة) دراهم (وزن سبعة مثاقيل)."
(كتاب الزكاة، ج:2، ص:292، ط: سعید)
البحرالرائق میں ہے:
"(قوله يجب في مائتي درهم وعشرين مثقالا ربع العشر) ، وهو خمسة دراهم في المائتين، ونصف مثقال في العشرين."
(كتاب الزكاة ،ج:2، ص:242، ط:دارالکتاب الاسلامی)
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:
"فأما إذا كان له ذهب مفرد فلا شيء فيه حتى يبلغ عشرين مثقالا فإذا بلغ عشرين مثقالا ففيه نصف مثقال؛ لما روي في حديث عمرو بن حزم «والذهب ما لم يبلغ قيمته مائتي درهم فلا صدقة فيه فإذا بلغ قيمته مائتي درهم ففيه ربع العشر» وكان الدينار على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم مقومًا بعشرة دراهم. وروي عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال لعلي: «ليس عليك في الذهب زكاة ما لم يبلغ عشرين مثقالا فإذا بلغ عشرين مثقالا ففيه نصف مثقال» وسواء كان الذهب لواحد أو كان مشتركا بين اثنين أنه لا شيء على أحدهما ما لم يبلغ نصيب كل واحد منهما نصابا عندنا، خلافاً للشافعي."
(كتاب الزكاة، ج:2، ص:18، ط:دارالکتاب الاسلامی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144803100677
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن