
ہمارا پیشہ تعمیرات (بلڈر)کا ہے، ہمارے پاس ایک فلیٹ ہے جس کی اصل قیمت دس لاکھ (Rs. 10,00,000) ہے، عموماً ہم خریدار کے سامنے بارہ لاکھ (Rs. 12,00,000) کا دعویٰ کر دیتے ہیں مگر حتمی سودا عام طور پر دس لاکھ پر طے پا جاتا ہے، ایک ڈیلر ہمارے پاس آتا ہے، چونکہ ڈیلروں کے ساتھ ہمارا کام زیادہ رہتا ہے، ہم انہیں اصل قیمت (Rs. 10,00,000) بتا دیتے ہیں، وہ اپنے گاہک سے بات کر کے گاہک سے بارہ لاکھ (Rs. 12,00,000) پر سودا طے کر دیتا ہے، اس کے بعد وہ ہم کو اصل رقم (Rs. 10,00,000) دے دیتا ہے اور دو لاکھ (Rs. 2,00,000) اپنے رکھ لیتا، یہ دو لاکھ وہ اپنے لیے منافع/فیس کہتا ہے۔ ڈیلر ہمیں پیشگی کہہ دیتا ہے کہ “آپ بارہ لاکھ سے کم نہ کریں، آپ کو آپ کے دس لاکھ مل جائیں گے، باقی دو لاکھ میں لے لوں گا۔” سوالات براہِ کرم تفصیل کے ساتھ بتائیے:
کیا ڈیلر کا دو لاکھ رکھنا شرعاً جائز ہے؟ کیا اس عمل کو دھوکہ، تدلیس، یا کسی قسم کے غیر شفاف کاروبار (غَرَر یا تدلیس) میں شمار کیا جائے گا؟
اگر یہ عمل ناجائز ہے تو ہمیں کس طریقے سے کام کرنا چاہیے؟ کیا ڈیلر کو اصل قیمت نہ بتائی جائے، یا خریدار سے براہِ راست سودا کیا جائے، یا کوئی اور شرعی حل موجود ہے؟
اگر ہم اسے ڈیلر کی فیس/کمیشن سمجھ لیں تو کیا اس میں شرعی مانع (مثلاً ربا یا غَرَر وغیرہ) کا خدشہ ہے؟
1۔سوال میں ذکر کی گئی تفصیل سے معلوم ہورہا ہے کہ صورتِ مسئولہ میں فلیٹ کی خرید و فروخت براہِ راست بلڈر اور خریدار کے درمیان ہوتی ہے، جب کہ ڈیلر خود فلیٹ کا خریدار نہیں، بلکہ وہ ان دونوں (بلڈر اور خریدار) کے درمیان کمیشن ایجنٹ/دلال ہے، یعنی ڈیلر دونوں کے درمیان سودا کروانے اور معاملہ طے کرانے کا کام کرتا ہے، چنانچہ اگر بلڈر اور ڈیلر کے درمیان باہمی رضامندی سے یہ معاہدہ طے ہوجائے کہ ڈیلر بطور کمیشن ایجنٹ بلڈر کا فلیٹ 12 لاکھ روپے میں فروخت کروائے گا اور اس کے عوض بلڈر سے دو لاکھ روپے اپنا کمیشن وصول کرے گا، اور اس کے بعد ڈیلر حسبِ معاہدہ بلڈر کا فلیٹ 12 لاکھ روپے میں کسی کو فروخت کروادیتا ہے اور بلڈر 10 لاکھ روپے خود رکھ کر دو لاکھ روپے ڈیلر کو بطورِ کمیشن ادا کرتا ہے، تو ڈیلر کے لیے یہ دو لاکھ روپے کمیشن لینا شرعاً جائز ہوگا، بشرطیکہ اس میں خریدار سے کسی قسم کی دھوکہ دہی یا غلط بیانی نہ کی جائے، اس صورت میں دو لاکھ روپے ڈیلر کی طرف سے فلیٹ کی قیمت میں کیا جانے والا کوئی اضافہ نہیں، بلکہ بلڈر کی جانب سے کمیشن ایجنٹ (ڈیلر) کو دی جانے والی اجرت/کمیشن ہے، لہٰذا محض اس وجہ سے اس معاملے کو دھوکہ، تدلیس، ربا، غرر وغیرہ پر مشتمل نہیں کہا جائے گا، اس لیے یہ معاملہ جائز ہے۔
البتہ اگر مذکورہ فلیٹ کی مارکیٹ ویلیو دس لاکھ روپے ہو لیکن خریدار کو اس کی حقیقی مارکیٹ ویلیو (بازاری قیمت) کا علم نہ ہو اور وہ محض ڈیلر پر اعتماد کرتے ہوئے اسے بارہ لاکھ روپے میں خرید رہا ہو، جب کہ بلڈر ڈیلر کے کمیشن کی وجہ سے خریدار کو یہ فلیٹ بارہ لاکھ روپے میں فروخت کر رہا ہو، حالاں کہ اگر خریدار براہِ راست بلڈر سے معاملہ کرتا تو بلڈر یہی فلیٹ دس لاکھ روپے میں فروخت کردیتا، تو ایسی صورت میں مارکیٹ ویلیو سے زائد قیمت پر سودا کروانے کی وجہ سےاس معاملے کو اگرچہ شرعاً ناجائز قرار نہیں دیا جائے گا؛ تاہم ڈیلر کا خریدار کے مارکیٹ ریٹ سے ناواقف ہونے اور اس کے اپنے اوپر اعتماد کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اس پر دو لاکھ روپے زائد کا بوجھ ڈال کر اتنی ہی رقم بطورِ کمیشن اپنے لیے حاصل کرنا اخلاقاً غلط اور دیانت کے تقاضوں کے خلاف عمل ہوگا، خصوصاً جبکہ ڈیلر کو معلوم ہو کہ مذکورہ فلیٹ کی مناسب قیمت دس لاکھ روپے ہے اور اضافی دو لاکھ روپے صرف اس کی کمیشن کی وجہ سے خریدار سے وصول کیے جارہے ہیں، اس لیے ایسی صورت میں ڈیلر کو خریدار کے اعتماد سے غلط فائدہ اٹھانے کے بجائے، خریدار کے اعتماد کا لحاظ رکھنا چاہیے اور اس کے ساتھ خیر خواہی اور دیانت داری کا معاملہ اختیار کرنا چاہیے۔
2۔اگر اس معاملے میں خریدار ڈیلر کو اپنی طرف سے فلیٹ کی خریداری کا وکیل مقرر کرے کہ وہ اس کے لیے بلڈر سے فلیٹ خریدے، تو چونکہ اس صورت میں ڈیلر خریدار کی طرف سے عقد کرنے والا وکیل ہوگا اور وکیل عاقد کی حیثیت سے عقد کرتا ہے، اس لیے وہ دوسرے عاقد ( فلیٹ فروخت کرنے والے بلڈر) سے اس عقد کے عوض بطورِ کمیشن اجرت لینے کا شرعاً حق دار نہیں ہوگا۔
اسی طرح اگر ڈیلر خریدار کو بتائے بغیر بطورِ وکیل بلڈر سے فلیٹ کی قیمت کم کرواکر بارہ لاکھ کے بجائے دس لاکھ روپے میں سودا کرلے اور موکل (یعنی خریدار) سے 12 لاکھ روپے وصول کر کے دس لاکھ روپے بلڈر کو دے دے اور دو لاکھ روپے اس نیت سے اپنے پاس رکھ لے کہ یہ میری وکالت کی اجرت ہے، تو یہ بھی جائز نہیں ہوگا؛ کیوں کہ وکیل امین ہوتا ہے اور جو ڈسکاؤنٹ اسے ملتا ہے وہ دراصل مؤکل کے حق میں ہی شمار ہوتا ہے، اس لیے وکیل کی حیثیت سے ڈیلر نے جو قیمت کم کروائی ہے، وہ کمی اور ڈسکاؤنٹ خریدار کے حق میں شمار ہوگی اور فلیٹ کا اصل سودا دس لاکھ روپے ہی میں سمجھا جائے گا، لہٰذا ڈیلر کے لیے خریدار سے غلط بیانی کرکے بارہ لاکھ روپے لے کر اس میں سے دس لاکھ بلڈر کو دینا اور دو لاکھ روپے اپنی اجرت کے نام پر رکھ لینا جائز نہیں ہوگا، بلکہ اسے خریدار کو اصل قیمت بتاکر اس سے صرف دس لاکھ روپے ہی لینے کا حق ہوگا؛ کیونکہ وکیل کے لیے موکل کو بتائے بغیر اور اس کی اجازت کے بغیر خفیہ طور پر اپنے لیے کوئی رقم رکھ لینا جائز نہیں۔
اس کی جائز صورت یہ ہوسکتی ہے کہ ڈیلر خریدار سے یہ معاہدہ کرے کہ "میں آپ کو بطورِ وکیل دس لاکھ روپے کا فلیٹ دلاؤں گا اور اس وکالت کے عوض آپ سے دو لاکھ روپے بطورِ اجرت لوں گا، اس طرح آپ کو فلیٹ 12 لاکھ روپے کا پڑے گا؛ یعنی دس لاکھ روپے فلیٹ کی قیمت اور دو لاکھ روپے میری وکالت کی اجرت ہوگی۔" اس صورت میں دو لاکھ روپے ڈیلر کی اجرت ہوں گے اور یہ اجرت پہلے سے معلوم اور باہمی رضامندی سے طے شدہ ہونے کی وجہ سے جائز ہوگی۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجا ينسج له ثيابا في كل سنة."
(كتاب الإجارة،باب الإجارة الفاسدة، مطلب في أجرة الدلال، ج:6، ص:63، ط:سعيد)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوهبانية.
(قوله: يعتبر العرف) فتجب الدلالة على البائع أو المشتري أو عليهما بحسب العرف جامع الفصولين."
( كتاب البيوع، ج:4، ص:560، ط: سعيد)
العقود الدریۃ فی تنقيح الفتاوى الحامدیۃ میں ہے:
" (سئل) في دلال سعى بين البائع والمشتري وباع المالك المبيع بنفسه والعرف أن الدلالة على البائع فهل تكون على البائع؟
(الجواب) : نعم وفي فوائد صاحب المحيط الدلال إذا باع العين بنفسه ثم أراد أن يأخذ من المشتري الدلالة ليس له ذلك؛ لأنه هو العاقد حقيقة وتجب على البائع الدلالة؛ لأنه فعل بأمر البائع هكذا أجاب ثم قال ولو سعى الدلال بينهما وباع المالك بنفسه يضاف إلى العرف إن كانت الدلالة على البائع فعليه وإن كانت على المشتري فعليه وإن كانت عليهما فعليهما عمادية من أحكام الدلال وما يتعلق به ومثله في الفصولين وشرح التنوير للعلائي من البيع. "
(كتاب البيوع، ج:1، ص:247، ط:دار المعرفة)
مجمع الضمانات میں ہے:
" الدلال لو باع العين بنفسه بإذن مالكه ليس له أخذ الدلالة من المشتري إذ هو العاقد حقيقة وتجب الدلالة على البائع إذا قبل بأمر البائع ولو سعى الدلال بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف فتجب الدلالة على البائع أو على المشتري أو عليهما بحسب العرف."
(باب مسائل الإجارة،القسم الثاني في الأجير،النوع السابع عشر الدلال ومن بمعناه،ضمان البياع والسمسار، ص:54، ط:دار الكتاب الإسلامي)
درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:
"(إذا شرطت الأجرة في الوكالة وأوفاها الوكيل استحق الأجرة، وإن لم تشترط ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا. فليس له أن يطالب بالأجرة) يستحق في الإجارة الصحيحة الأجرة المسمى. وفي الفاسدة أجر المثل ... لكن إذا لم يشترط في الوكالة أجرة ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا، وليس له أن يطلب أجرة. أما إذا كان ممن يخدم بالأجرة يأخذ أجر المثل ولو لم تشترط له أجرة."
(الکتاب الحادی عشر الوکالة، الباب الثالث، الفصل االأول، ج3، ص:573، ط:دارالجیل)
فتاویٰ عالمگیریہ میں ہے:
"وأما شرائط الصحة فمنها رضا المتعاقدين. ومنها أن يكون المعقود عليه وهو المنفعة معلوما علما يمنع المنازعة فإن كان مجهولا جهالة مفضية إلى المنازعة يمنع صحة العقد وإلا فلا ... ومنها أن تكون الأجرة معلومة."
(کتاب الاجارۃ، الباب الأول تفسير الإجارة وركنها وألفاظها وشرائطها، ج:4، ص:411، ط:دار الفکر)
فتاوی شامی میں ہے:
"وحاصله أنه يصير وكيلا بألفاظ الوكالة، ويصير رسولا بألفاظ الرسالة وبالأمر، لكن صرح في البدائع أن: افعل كذا وأذنت لك أن تفعل كذا توكيل، ويؤيده ما في الولوالجية: دفع له ألفا وقال: اشتر لي بها أو بع أو قال: اشتر بها أو بع ولم يقل لي كان توكيلا، وكذا اشتر بهذا الألف جارية، وأشار إلى مال نفسه، ولو قال اشتر هذه الجارية بألف درهم كان مشورة والشراء للمأمور إلا إذا زاد، على أن أعطيك لأجل شرائك درهما؛ لأن اشتراط الأجر له يدل على الإنابة اهـ. وأفاد أنه ليس كل أمر توكيلا بل لا بد مما يفيد كون فعل المأمور بطريق النيابة عن الآمر فليحفظ اهـ. هذا جميع ما كتبه نقلته، وبالله التوفيق."
(كتاب الوکالة، ج:5، ص:509، ط:سعيد)
درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:
" أما لو قال الموكل: اشتر لي الدار الفلانية بعشرة آلاف درهم واشترى الوكيل بأقل من عشرة آلاف، فيكون قد اشترى للموكل. وقد عينت الدار التي ستشرى (بقيد الفلانية) ؛ لأنه إذا لم تعين كقولك (اشتر لي دارا في الحي الفلاني بعشرة آلاف درهم) واشترى الوكيل دارا في ذلك الحي بأقل من عشرة آلاف درهم، فإذا كانت قيمة تلك الدار عشرة آلاف درهم نفذ الشراء في حق الموكل. أما إذا كانت قيمتها أقل من عشرة آلاف درهم فلا ينفذ في حق الموكل."
(الکتاب الحادی عشر الوکالة، الباب الثالث، الفصل الثانی، المادۃ:1479، ج3، ص:587، ط:دارالجیل)
فتاویٰ شامی میں ہے:
" والفرق بين الثمن والقيمة أن الثمن ما تراضى عليه المتعاقدان سواء زاد على القيمة أو نقص، والقيمة ما قوم به الشيء بمنزلة المعيار من غير زيادة ولا نقصان."
(كتاب البيوع، باب خيار الشرط، مطلب في الفرق بين القيمة والثمن، 4/ 575، ط: سعید)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
"لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي."
(كتاب الحدود، الباب السابع في حد القذف والتعزير، فصل في التعزير، ج:2، ص:167، ط:رشيدية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144803100660
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن