
ہمارے یہاں لُنگی، پاجامہ اور پینٹ عام طور پر ٹخنوں سے نیچے ہی رکھا جاتا ہے، اور بہت سے لوگ نماز کے وقت مسجد میں آ کر پائنچے اوپر کر لیتے ہیں، نماز کے بعد پھر نیچے کر دیتے ہیں۔ کچھ نوجوان کہتے ہیں کہ اصل ممانعت تو تکبر کے ساتھ لٹکانے کی ہے، ہم تو صرف رواج کے مطابق پہنتے ہیں، ہمارے دل میں کوئی تکبر نہیں۔ دلائل کے ساتھ واضح فرمائیں کہ اس بارے میں شریعت کا حکم کیا ہے، اور کیا یہ حکم صرف نماز کے ساتھ خاص ہے؟
واضح رہے کہ مردوں کے لیے ازار ٹخنوں سے نیچے لٹکانا شرعاً ممنوع ہے، احادیثِ مبارکہ میں اس پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔ اگر تکبر اور فخر کی نیت سے ہو تو حرام اور گناہِ کبیرہ ہے، اور اگر تکبر کی نیت نہ ہو، بلکہ محض رواج اور فیشن کے طور پر جان بوجھ کر ایسا کیا جائے تو مکروہِ تحریمی اور ناجائز ہے؛ البتہ اگر بغیر قصد و ارادہ کے کبھی پائنچہ نیچے لٹک جائے تو وہ معاف ہے۔
یہ ممانعت نہ کسی ایک لباس کے ساتھ خاص ہے اور نہ نماز کے ساتھ؛ لُنگی ہو یا دھوتی، پاجامہ ہو یا پینٹ، قمیص ہو یا جبہ یا چادر، ہر وہ لباس اس میں داخل ہے جس سے مرد کے ٹخنے ڈھک جائیں، اور نماز ہو یا نماز کے علاوہ، ہر حال میں ٹخنے کھلے رکھنا لازم ہے، نماز میں اس کی حرمت مزید شدید ہو جاتی ہے۔ باقی اگر پائنچہ لٹکا کر نماز پڑھ لی تو نماز ادا ہو جائے گی، اعادہ لازم نہیں، تاہم گناہ ہو گا۔ نیز عورتوں کا حکم اس کے برعکس ہے، وہ اپنا لباس ٹخنوں سے نیچے رکھیں گی تاکہ قدموں کی پشت بھی چھپ جائے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں محض رواج کی بنا پر بھی لُنگی، پاجامہ یا پینٹ ٹخنوں سے نیچے رکھنا جائز نہیں، اور صرف نماز کے وقت پائنچے اوپر کر کے نماز کے بعد دوبارہ نیچے کر لینا بھی درست نہیں۔ اور یہ کہنا کہ ”ہمارے دل میں تکبر نہیں“ اس فعل کو جائز کرنے کے لیے کافی نہیں، اس لیے کہ یہ وضع ہی بذاتِ خود متکبرین کی علامت ہے۔ اس لیے ایسا لباس ہی نہ بنوایا جائے جس کے پائنچے ٹخنوں سے نیچے جاتے ہوں۔
صحیح البخاری میں ہے:
"عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «ما أسفل من الكعبين من الإزار ففي النار»."
(كتاب اللباس، باب ما أسفل من الكعبين فهو في النار، رقم:5787، ج:7، ص:409، ط: دار التأصيل)
ترجمہ:
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا: از قسم ازار (یعنی پاجامہ وغیرہ) کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہو گا، وہ دوزخ میں ڈالا جائے گا۔“
(مظاہرِ حق)
وفیہ ایضاً:
"عن سالم بن عبد الله، عن أبيه رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «من جر ثوبه خيلاء لم ينظر الله إليه يوم القيامة». قال أبو بكر: يا رسول الله، إن أحد شقي إزاري يسترخي، إلا أن أتعاهد ذلك منه؟ فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «لست ممن يصنعه خيلاء»."
(كتاب اللباس، باب من جر إزاره من غير خيلاء، ج:5، ص:181، ط: دار ابن كثير، دار اليمامة، )
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"عن ابن عمر قال: مررت برسول الله صلى الله عليه وسلم وفي إزاري استرخاء، فقال: «يا عبد الله ارفع إزارك»، فرفعته، ثم قال: «زد»، فزدت، فما زلت أتحراها بعد، فقال بعض القوم: إلى أين؟ قال: «إلى أنصاف الساقين». رواه مسلم."
(كتاب اللباس، الفصل الثالث، ج:2، ص:250، ط: المكتب الإسلامي)
فیض الباری علی صحیح البخاری میں ہے:
"قوله: (من جر ثوبه خيلاء): وجر الثوب ممنوع عندنا مطلقاً، فهو إذن من أحكام اللباس، وقصر الشافعية النهي على قيد المخيلة، فإن كان الجر بدون التكبر فهو جائز، وإذن لا يكون الحديث من أحكام اللباس. والأقرب ما ذهب إليه الحنفية؛ لأن الخيلاء ممنوع في نفسه، ولا اختصاص له بالجر. وأما قوله صلى الله عليه وسلم لأبي بكر: «إنك لست ممن يجر إزاره خيلاء»، ففيه تعليل بأمر مناسب، وإن لم يكن مناطاً، فعلة الإباحة فيه عدم الاستمساك إلا بالتعهد... وسؤال أبي بكر أيضاً يؤيد ما قلنا، فإنه يدل على أنه حمل النهي على العموم، ولو كان عنده قيد الخيلاء مناطاً للنهي لما كان لسؤاله معنى."
(كتاب اللباس، باب من جر ثوبه من الخيلاء، ج:6، ص:72، ط: دار الكتب العلمية)
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں ہے:
"(من جر ثوبه) يدخل فيه الإزار والرداء والقميص والسراويل والجبة والقباء وغير ذلك مما يسمى ثوباً."
(كتاب اللباس، ج:21، ص:295، ط: دار إحياء التراث العربي،)
امداد الفتاویٰ میں ہے:
”اور ما نحن فیہ میں حکم معصیت ہے اور مطلق جر اور جر للخیلاء اسباب اس کے ہیں، یہاں مطلق مقید پر محمول کرنے کی کوئی وجہ نہیں، پس مطلق جر کو بھی حرام کہیں گے اور جر للخیلاء کو بھی؛ البتہ دونوں حرمتوں میں اگر کسی قدر تفاوت مانا جائے تو گنجائش ہے؛ کیوں کہ ایک جگہ ایک منہی عنہ کا ارتکاب ہے، یعنی جر کا، اور دوسری جگہ دو منہی عنہ کا ارتکاب ہے، یعنی جر کا اور خیلاء کا... رہا قصّہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا، میرے نزدیک اس حدیث کے معنی یہ ہیں کہ ’إنك لست تفعله بالاختیار والقصد‘، چنانچہ ’إلا أن أتعاهد‘ اس کی دلیل ہے کہ بلا قصد ایسا ہو جاتا تھا۔“
(کتاب الحظر والاباحۃ، احکامِ متعلقہ لباس، ج:4، ص:122، ط: دار العلوم کراچی)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"ينبغي أن يكون الإزار فوق الكعبين إلى نصف الساق، وهذا في حق الرجال، وأما النساء فيرخين إزارهن أسفل من إزار الرجال ليستر ظهر قدمهن."
(كتاب الكراهية، الباب التاسع في اللبس، ما يكره من ذلك وما لا يكره، ج:5، ص:333، ط: رشيدية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144803100655
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن