
میں نے ایک رشتہ دار خاتون کے پاس بی سی ڈالی اور میرے چھ ممبرز تھے۔ پندرہ مہینے کی بی سی تھی۔ جب میرے ممبرز کی باری آئی تو اس نے بی سی کے پیسے دینے میں آج کل کرتے کرتے صرف ایک بی سی دی، باقی بی سی دینے کا کہتی تو ہے، مگر چھ مہینے ہو گئے اور میرے ممبرز کو بی سی نہیں ملی۔
اب میرے ممبرز مجھ سے پیسے مانگ رہے ہیں اور میرے پاس نہ تو زیورات وغیرہ ہے اور نہ پیسے کہ میں اپنے ممبرز کو دے سکوں۔ میرے پاس جو بھی ہے، وہ شوہر کے پیسے ہیں، جن سے گھر کا خرچ چلتا ہے۔
سوال 1: کیا میں لوگوں سے زکوٰۃ لے کر اپنے ممبرز کو ان کی رقم ادا کر سکتی ہوں؟ میرے ممبرز نے مجھ پر اعتماد کرتے ہوئے بی سی کے پیسے مجھے دیے تھے، تاکہ میں ان کی طرف سے اپنے اس رشتہ دار کے پاس بی سی ڈال سکوں۔ چونکہ انہوں نے بی سی کی رقم میرے ذریعے جمع کروائی تھی، اس لیے اب وہ اپنی رقم بھی مجھ ہی سے مانگ رہے ہیں۔ اس طرح تقریباً آٹھ سے دس لاکھ روپے کی رقم بنتی ہے۔ کیا میں زکوٰۃ لے کر ان لوگوں کی رقم ادا کر سکتی ہوں؟ زندگی اور موت کا کوئی بھروسا نہیں، اور میں نہیں چاہتی کہ مقروض ہو کر مر جاؤں۔
سوال 2: کیا میں سوتیلے بچوں سے زکوۃ لے سکتی ہوں؟ میں سیده نہیں ہوں۔
وضاحت: بی سی ڈالتے وقت میرے اور میرے ممبرز کے درمیان ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا کہ جس خاتون کے پاس بی سی ڈالی جا رہی ہے، اگر وہ رقم ادا نہ کرے یا ٹال مٹول کرے تو میں اس کی ضامن ہوں گی۔ نہ ہی میں نے ان سے یہ کہا تھا کہ آئندہ کسی بھی قسم کا مسئلہ پیش آنے کی صورت میں میں اس کی ذمہ دار ہوں گی۔ بلکہ یہ لوگ میرے بینک اکاؤنٹ میں بی سی کی رقم بطورِ امانت بھیجتے تھے، تاکہ میں وہ رقم اپنے رشتہ دار خاتون کے پاس بی سی میں جمع کروا سکوں۔
1۔ بصدقِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں چوں کہ سائلہ کے واقف کار بی سی جمع کروانے کے لیے جو رقم اس کے بینک اکاؤنٹ میں ہر ماہ بھیجتے تھے، اور پھر سائلہ مذکورہ رقم اپنی رشتہ دار خاتون کے پاس جمع کروا دیتی تھی، اور جمع کروانے میں کوئی کوتاہی نہیں کرتی تھی، تو حسبِ ضابطہ بی سی جمع کرنے والی خاتون پر مقررہ وقت پر ہر ممبر کو اس کی بی سی دینا شرعاً لازم ہے، ٹال مٹول کرنا جائز نہیں۔ سائلہ چوں کہ اس معاملہ میں واسطہ ہے، اس لیے اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ مذکورہ رشتہ دار خاتون سے بی سی کا مطالبہ کرے، اور فریقین کا آمنا سامنا بھی کرادے۔
تاہم مذکورہ معاملہ کراتے وقت سائلہ کے پاس اس کے ممبران رقم جمع کراتے تھے، اس لیے انہیں سائلہ سے مطالبہ کرنے کا حق ہوگا۔ پس سائلہ کی شرعی ذمہ داری ہوگی کہ وہ اپنی رشتہ دار خاتون سے رقم وصول کرکے اپنے ہر ممبر کو اس کی رقم ادا کرے۔ مسئولہ صورت میں سائلہ اگر اپنے پاس سے رقم دیتی ہے، تو ادا کردہ رقم اپنی مذکورہ رشتہ دار سے طلب کرنے کا اسے اختیار ہوگا۔
2۔ حقیقی اولاد سے زکوٰۃ وصول کرنا جائز نہیں، البتہ سوتیلی اولاد اگر سوتیلی ماں کو زکوٰۃ دے دے، تو ان کی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی، بشرطیکہ سوتیلی والدہ صاحبِ نصاب نہ ہو، یعنی اس کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سونا، یا ساڑھے باون تولہ چاندی، یا کچھ سونا کچھ چاندی، یا کچھ ضرورتِ اصلیہ سے زائد نقدی یا مالِ تجارت، جن کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے مساوی ہو، نہ ہو۔
مسئولہ صورت میں چونکہ سائلہ کے پاس اپنے ذاتی ملکیت میں نقد رقم یا زیورات وغیرہ بقدرِ نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر) موجود نہیں ہیں اور نہ ہی سائلہ سیدہ ہیں، لہٰذا سائلہ اپنی ضروریات پوری کرنے یا اپنے ذمہ واجب الاداء قرض کی ادائیگی کے لیے زکوٰۃ لے سکتی ہیں۔
الاختيار لتعليل المختار میں ہے:
"وهو عقد مشروع أمانة لا غرامة، قال عليه الصلاة والسلام: «ليس على المستودع غير المغل ضمان، ولا على المستعير غير المغل ضمان» ويجب حفظها على المودع إذا قبلها ; لأنه التزم الحفظ بالعقد، ....قال: (وهي أمانة إذا هلكت من غير تعد لم يضمن) ; لأنه لو وجب الضمان لامتنع الناس من قبولها وفيه من الفساد ما لا يخفى، ولما روينا من الحديث."
(كتاب الوديعة، ج: 3، : 25، ط: دار الكتب العلمية بيروت)
البنایۃ شرح الہدایۃ میں ہے:
"والمال في يد الوكيل أمانة."
(كتاب البيوع، باب الاستحقاق، فصل في بيع الفضولي، حكم بيع الفضولي، ج: 8، ص: 314، ط: دار الكتب العلمية بيروت)
مراقی الفلاح شرح نور الايضاح میں ہے:
"باب المصرف هو الفقير، وهو: من يملك مالا يبلغ نصابا ولا قيمته من أي مال كان ولو صحيحا مكتسبا والمسكين وهو: من لا شيء له والمكاتب والمديون الذي لا يملك نصابا ولا قيمته فاضلا عن دينه وفي سبيل الله وهو منقطع الغزاة أو الحاج وابن السبيل."
(كتاب الزكاة، باب المصرف، ص: 272، ط: المكتبة العصرية)
فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:
"وفي تجنيس خواهرزاده: ويجوز أن يعطى امرأة أبيه وابنه وزج ابنته. "
(کتاب الزكوة، الفصل الثامن:في المسائل المتعلقة بمن توضع فيه الزكاة ،ج: 3، ص: 211، ط: مكتبة زكريا بديوبند الهند)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144803100653
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن