
مسجد کے وضوخانے کے قریب ایک بڑا گڑھا بنایا گیا ہے ،جس میں مسجد کے بیت الخلاء کا گندا پانی جمع ہوتا ہے، اگر یہ گندا پانی مسجد اور قبرستان کی نچلی تہہ تک پہنچ جائے تو شرعاً اس کا کیاحکم ہے؟ کیا اس سے مسجد یا قبرستان کی حرمت متاثر ہوتی ہے؟
صورتِ مسئولہ میں مسجد سے کچھ فاصلہ پر ایسا گڑھا بنانا کہ مسجد میں اس کی بو نہ آئے جائز ہے،اگر چہ یہ پانی رس کہ مسجد یا قبرستان کی تہہ کو پہنچتا ہو۔
فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
"لا بأس بالصلاة حذاء البالوعة إذا لم تكن بقربه، قال عين الأئمة الكرابيسي لا تكره الصلاة في بيت فيه بالوعة، كذا في القنية."
(کتاب الکراہیہ، ج:5،ص:315،ط:رشیدیہ)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144803100615
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن