بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

27 ربیع الاول 1448ھ 10 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد کے قریب بیت الخلاء کے گندے پانی کے لیے گڑھا کھودنے کا حکم


سوال

مسجد کے وضوخانے کے قریب ایک بڑا گڑھا بنایا گیا ہے ،جس میں مسجد کے بیت الخلاء کا گندا پانی جمع ہوتا ہے، اگر یہ گندا پانی مسجد اور قبرستان کی نچلی تہہ تک پہنچ جائے تو شرعاً اس کا کیاحکم ہے؟ کیا اس سے مسجد یا قبرستان کی حرمت متاثر ہوتی ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مسجد سے کچھ فاصلہ پر ایسا گڑھا بنانا کہ مسجد میں اس کی  بو نہ آئے جائز ہے،اگر چہ یہ پانی رس کہ مسجد یا قبرستان کی تہہ کو پہنچتا ہو۔

فتاوی عالمگیریہ میں ہے:

"لا بأس بالصلاة حذاء البالوعة إذا لم تكن بقربه، قال عين الأئمة الكرابيسي لا تكره الصلاة في بيت فيه ‌بالوعة، كذا في القنية."

(کتاب الکراہیہ، ج:5،ص:315،ط:رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144803100615

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں