بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 ربیع الاول 1448ھ 06 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

والد کی وفات کے بعد بہنوں کو وراثتی جائیداد اور آمدنی سے محروم رکھنے کا شرعی حکم


سوال

ہم 6 بہنیں اور 3 بھائی ہیں۔ ہمارے والد صاحب کا 6 سال پہلے انتقال ہو گیا تھا۔ والد صاحب اپنی وراثت میں کچھ زرعی زمین، ایک پلاٹ اور ایک گھر چھوڑ گئے ہیں جس میں والدہ اور بھائی مقیم ہیں۔

شرعاً تو والد کے انتقال کے فوراً بعد جائیداد کی تقسیم ہو جانی چاہیے تھی۔ بھائی نے زمینوں کا بٹوارہ کر کے تمام بہن بھائیوں کے نام چڑھا دی ہیں لیکن ہمیں بہنوں کو نہیں پتہ کہ وہ زمینیں کہاں ہیں۔ تمام زمینوں کے معاملات ہمارا منجھلا بھائی دیکھتا ہے۔ وہ کہتا ہے زمینیں ہاتھ بٹائی پر دی ہوئی ہیں جس سے وہ ہر بہن کو سالانہ 150000 دیتا ہے لیکن تھوڑا تھوڑا کر کے۔ جو پلاٹ ہے وہ بھی ایسے ہی پڑا ہے۔ جب ہم اسے بیچنے کا کہتے ہیں تو بڑا بھائی کہتا ہے میں نے فروخت کا بولا ہوا ہے لیکن کس کو اور کتنے میں، یہ ہمیں نہیں معلوم، اس کے علاوہ جس گھر میں والدہ اور بھائی مقیم ہیں اس میں ہم سب کا حصہ ہے۔

 ہم سب بہنیں کسی نہ کسی ضرورت میں پھنسی ہوئی ہیں اور ہم والدہ اور بھائیوں کی ناراضگی مول نہیں لینا چاہتیں۔

 اس لیے ہم چاہتی ہیں کہ اس پر شریعت کیا کہتی ہے، اس پر ایک فتویٰ چاہیے تاکہ آخرت کے معاملات کو دیکھ کر ہی ہمارے گھر والے کوئی فیصلہ لیں۔

جواب

واضح رہے کہ انتقال کے بعد مرحوم کے ترکہ سے اس کی( تکفین، قرض کی ادائیگی اور جائز وصیت پوری کرنے کے بعد) مابقیہ کل ترکہ کو مرحوم کے شرعی وارثوں میں وراثت کے شرعی ضابطہ کے مطابق تقسیم کر دینا چاہیے،بلا وجہ تقسیم میں تاخیر کرنا ضرورت مند وارثوں کو ان کے حصون میں حسب منشاء تصرف کا اختیار نہ دینا غلط ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں مرحوم کی بیٹیوں کو جب اپنے حصوں سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہےاور وہ تقاضہ بھی کررہی ہیں،تو پھر مرحوم کے بیٹوں پر لازم ہے کہ ترکہ تقسیم کرکے ہر ایک کو اس کے حصہ کا مالک ومتصرف بنادیں،اس کے باوجود اگر وہ حصہ سپرد کرنے پر آمادہ نہ ہوں،تو مرحوم کی بیٹیاں بذریعہ عدالت اپنے حصہ کا مطالبہ کرسکتی ہیں،کیوں کہ تقسیم میں بلاوجہ تاخیر کرنا اور بہنوں کو ان کے حصے سے محروم یا بے خبر رکھنا سخت گناہ اور ظلم ہے،اور ان کی رضامندی کے بغیر ان کے حصوں میں تصرف کرنا یا آمدنی کا مکمل حساب نہ دینا شرعاً ناجائز اور ظلم ہے، جس پر آخرت میں بازپرس کا اندیشہ ہے۔

مرحوم کے بیٹوں پر لازم ہےکہ ترکہ کے تمام معاملات شفاف طریقے سے واضح کریں اور تمام ورثاء کو ان کے شرعی حصوں کا ملک بنا دیں۔

تکملۃ رد المحتار علی الدر المختار میں ہے:    

" الإرث جبري لَايسْقط بالإسقاط".

(کتاب الدعوی، ج:7، ص:505، ط :سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144803100593

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں