بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 ربیع الثانی 1448ھ 19 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تین طلاق کو یونین کونسل سے کینسل کرانے کا حکم / تین طلاق اور شوہر کے انتقال کے بعد نکاح کے برقرار ہونے کا دعویٰ کرنے کا حکم


سوال

شوہر نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی تھی جو کہ تحریری طلاق نامہ کی صورت میں موجود ہے ۔  پھر طلاق کے چار سال بعد اس کا انتقال ہو گیا۔ انتقال تک اس کی بیوی کچھ نہیں کہہ رہی تھی ۔ اب انتقال  کے دو سال بعد وہ گھر پر آکر کہتی ہے کہ میں اس کی بیوی ہوں۔ اس نے مجھے طلاق نہیں دی ہے ، وہ طلاق میں نے کینسل کروائی ہے۔ حالانکہ تحریری طلاق نامہ موجود ہے اور اس پر گواہ بھی ہیں۔ اور طلاق دینے کے بعد اس (عورت) نے دوسرے شخص سے شادی بھی نہیں کی ہے کہ دوبارہ پہلے شوہر کے ساتھ اس کا نکاح درست ہو جائے۔
کیا وہ تین طلاق کے بعد دوسری جگہ نکاح کیے  بغیر  پہلے شوہر کے انتقال کے بعد اس کےگھر آسکتی ہے، تاکہ زوجیت، میراث وغیرہ کا دعویٰ کرے؟
شوہر نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی ہیں، تو کیا عورت یونین کونسل (UC) سے اس طلاق کو منسوخ کروا سکتی ہے؟
تنقیح: مذکورہ تحریری طلاق کے بعد میاں بیوی جدا ہوگئے تھے، ایک ساتھ نہیں رہ رہےتھے۔ پھر تقریباً چھ سال کے بعد اب شوہر کے انتقال کے بعد آکر زوجیت کا دعویٰ کر رہی ہے۔ 

جواب

صورت مسئولہ میں اگر واقعۃ ً شوہر نے زندگی میں حالت صحت و تندرستی میں نے اپنی بیوی کو تحریری طور پر  تینوں طلاقیں دے دی تھیں،تو بیوی اپنے شوہر پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی تھی،  زوجین کا نکاح اسی وقت ختم ہوگیا تھا،جس  کے بعدنہ رجوع جائز تھااور نہ ہی دوبارہ نکاح ہوسکتا تھا۔تین طلاق کے بعد شوہر پر اس کی بیوی حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی تھی اور کسی قسم کا کوئی رشتہ برقرار نہیں رہا تھا۔ مطلقہ اپنی عدت ( پوری تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو، اگرحمل ہو تو بچے کی پیدائش تک ) گزار کردوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگئی تھی۔

نیز  تین طلاق کے چھ  سال بعد( چار سال طلاق کے بعد سے شوہر کے انتقال تک اور دو سال اس کے  بعددعوے تک)  دوسری جگہ نکاح کیے بغیر اب عورت اگر واقعۃ ً  یہ دعویٰ کررہی ہے”  کہ  شوہر نے مجھے طلاق نہیں دی تھی یا یہ کہنا کہ میں نے اُسے یونین کونسل سے کینسل کروائی تھی“ تو  یہ دعویٰ شرعاً قابل اعتبارنہیں ہے۔  اس عورت کا اپنے سابق شوہر کے ساتھ کسی قسم کا رشتہ ازدواج باقی نہیں تھا ؛ لہٰذا مذکورہ عورت کی جانب سے زوجیت، میراث وغیرہ کا دعویٰ کرنا غلط ہے۔ نیز طلاق واقع ہوجانے کے بعد کسی بھی حکومتی ادارے کو طلاق کینسل کرنے کاحق و اختیار بھی حاصل نہیں ہے۔ 

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوريمیں ہے: " ولا يشترط أهليتها للإرث وقت الطلاق بل وقت موته حتى لو كانت في الرجعي مملوكة أو كتابية ثم أعتقت أو أسلمت في العدة ورثته، وأطلق البائن فشمل الواحدة والثلاث، وترك المصنف قيد الطواعية، ولا بد منه لأنه لو أكره على طلاقها البائن لا ترث كما لو أكرهت على سؤالها الطلاق فإنها ترث كما في القنية، وذكر في جامع الفصولين خلافا فيه، وقيد بأن يكون في مرضه احترازا عما إذا طلق في الصحة ثم مرض، ومات، وهي في العدة لا ترث منه."

(كتاب الطلاق، باب طلاق المريض، ج: 4، ص: 46، ط:  دار الكتاب الإسلامي)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"... ولو طلقها طلاقًا بائنًا أو ثلاثًا ثم مات وهي في العدة فكذلك عندنا ترث، ولو انقضت عدتها ثم مات لم ترث، وهذا إذا طلقها من غير سؤالها، فأما إذا طلقها بسؤالها فلا ميراث لها، كذا في المحيط.

... وإن کان الطلاق ثلاثاً في الحرة وثنتین في الأمة لم تحل له حتی تنکح زوجًا غیره نکاحًا صحیحًا ویدخل بها، ثم یطلقها أو یموت عنها."

( کتاب الطلاق، الباب الخامس/ الباب السادس ، ج:1، ص:462- 473، ط: رشدیه)

بدائع الصنائع میں ہے: 

" وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحد..."

کتاب الطلاق، فصل فی حکم الطلاق البائن، ج: 3، ص: 187، ط: دار الکتب العلمیة)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144803100562

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں