بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 ربیع الاول 1448ھ 04 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پیدائش کے بعد بچے کے کاٹے ہوئے بال اپنے پاس رکھنے کا حکم


سوال

کیا نومولود کے بال کاٹنے کے بعد پھینکنے چاہیے یا اپنے پاس رکھ سکتے ہیں؟

جواب

نومولود کے بال کاٹنے کے بعد اسے زمین میں دفن کردینا بہتر ہے،کسی صاف جگہ میں ایک طرف ڈال دینا بھی کافی ہے،  لیکن کوڑا کرکٹ یا نالی میں بہانا مکروہ ہے،لہٰذا  ان بالوں کو اپنے نہ رکھا جائے بلکہ جو طریقہ ثابت ہے اسی کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔

فتاوٰی ہندیہ میں ہے:

"فإذا قلم أطفاره أو جز شعره ينبغي أن يدفن ذلك الظفر والشعر المجزوز فإن رمى به فلا بأس وإن ألقاه في الكنيف أو في المغتسل يكره ذلك لأن ذلك يورث داء كذا في فتاوى قاضي خان.
يدفن أربعة الظفر والشعر وخرقة الحيض والدم كذا في الفتاوى العتابية."

(کتاب الکراھیة، الباب التاسع عشر في الختان والخصاء وقلم الأظفار وقص الشارب وحلق الرأس، ج: 5، ص: 357، ط: رشیدیة)

شرح مسند أبی حنیفہ لملا علی قاری میں ہے:

"(عن ابن عمر قال: انكسفت الشمس) أي تغيرت أو تسودت (يوم مات إبراهيم) وهو من جارية اسمها مارية أهداها له المقوقس صاحب مصر والاسكندرية (ابن رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد ولد في ذي الحجة سنة ثمان من الهجرة وكانت سلمى زوجة أبي رافع مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم قابلته، فبشر أبو رافع به النبي صلى الله عليه وسلم، فوهب له عبدا وعق عنه يوم سابعه بكبشين وحلق رأسه يومئذ، وسماه النبي صلى الله عليه وسلم يومئذ وتصدق بزنة شعره ورقا على المساكين، ودفنوا شعره في الأرض."

(ذكر إسناده عن عطاء بن السائب بن الماية، ج: 1، ص: 320، ط: دار الکتب العلمیة)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144803100561

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں