بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 ربیع الثانی 1448ھ 14 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حنفی المذہب شخص کا نفل نماز میں رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع الیدین کرنے کا حکم


سوال

ایک حنفی المذہب شخص گھر میں نفل نماز پڑھتے ہوئے کبھی کبھار رفع الیدین کرتا ہے اس نیت سے کہ یہ بھی آپ ﷺ سے ثابت ہے،کیا اس کا یہ عمل تلفیق کے زمرے میں آئے گا یا نہیں؟نیز منسوح پر عمل کرنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ ائمہ اربعہؒ کے نزدیک رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع الیدین اور ترکِ رفع الیدین دونوں جائز ہے۔

اختلاف صرف افضلیت میں ہے ،امام ابوحنیفہؒ اور امام مالکؒ کے نزدیک ترکِ رفع الیدین افضل ہے جبکہ امام شافعیؒ اور امام احمدؒ کے نزدیک رفع الیدین افضل ہے،اور دونوں طرف احادیث موجود ہیں۔

امام ابوحنیفہؒ اور امام مالکؒ نے رفع الیدین والی احادیث کو خلافِ اولٰی پر محمول کیا ہے،اس لیے اگر حنفی المذہب شخص نفل نماز میں کبھی کبھار رفع الیدین کرتا ہے تو یہ جائز ہے لیکن یہ خلافِ اولٰی شمار ہوگا،حنفی المذہب شخص کے حق میں اولٰی اور افضل یہی ہے کہ وہ رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع الیدین نہ کرے خواہ فرض نماز ہو یا نفل،بہر حال اگر حنفی مقلد نے رفع الیدین کرلیا تو یہ تلفیق شمار نہیں ہوگا اور نماز ادا ہوجائے گی۔

باقی منسوخ حکم پر عمل کرنے سے متعلق یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ جو حکم یقینی طور پر منسوخ ہو اس پر عمل کسی صورت میں جائز نہیں ہے، لیکن رفع الیدین والی احادیث احناف کے راجح قول کے مطابق  منسوخ نہیں ہیں، بلکہ رفع یدن والی احادیث خلافِ اولٰی پر محمول ہیں،اور اسی رائے کو علامہ انور شاہ کشمیریؒ نے اختیار کیا ہے۔

سنن الترمذی میں ہے:

"عن علقمة، قال: قال عبد الله بن مسعود : «ألا أصلي بكم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم،» فصلى، فلم يرفع يديه إلا في أول مرة.
وفي الباب عن البراء بن عازب.حديث ابن مسعود حديث حسن.
وبه يقول غير واحد من أهل العلم من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين، وهو قول سفيان الثوري وأهل الكوفة."

"حضرت علقمہ سے مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں تمہیں رسول اکرمﷺ  کی طرح نماز نہ پڑھاؤں؟ چنانچہ انہوں نے نماز پڑھائی تو صرف پہلی مرتبہ ہی اپنے دونوں ہاتھوں کو (کانوں) تک اٹھایا۔"

(أبواب الصلاة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، باب رفع اليدين عند الركوع، ج: 1، ص: 297، رقم الحدیث: 257، ط: دار الغرب الاسلامی بیروت)

معارف السنن میں ہے:

"ومما قال في خطبة " نيل الفرقدين " : وما قصدت بها إخمال أحد من الطرفين ، ولا يستطيعه ذوعينين ، وإنما أردت بها أن بيد كل واحد من الفريقين وجها من الوجهين ، وهما على الحق من الجانبين ، وليس الاختلاف اختلاف النقيضين ، بل اختلاف تنوع في العبادة من الوجهتين ، وكل سنة ثابتة عن رسول الثقلين ، تواتر العمل بها من عهد الصحابة والتابعين وأتباعهم على كلا النحوين ، وإنما بقي الاختلاف في الأفضل من الأمرين."

(باب رفع اليدين عند الركوع، ج: 2، ص: 452، ط: سعيد)

الفقہ الاسلامی وادلتہ میں ہے:

"معنى التلفيق:
التلفيق هو الجمع بين تقليد إمامين فأكثر في مسألة واحدة بحيث تكون هذه المسألة في صورة لا تقبل في أي مذهب من المذاهب.
مثال ذلك رجل توضأ فمسح أقل من ربع رأسه مقلدًا الشافعي، ثم لمس زوجة أو أجنبية مقلدًا أبا حنيفة في عدم نقض الوضوء بلمس المرأة وصلى فإن صلاته على هذه الحالة لا يقبلها كل من الأئمة، فلا يقبلها أبو حنيفة لعدم مسح ربع الرأس ولا يقبلها الشافعي لأن لمس الزوجة أو الأجنبية ينقض الوضوء عنده مطلقًا، ولا يقبلها مالك ولا أحمد لعدم مسح الرأس كله.
ومثل ذلك أن يقلد مالكًا في عدم نقض الوضوء بالقهقهة ويقلد أبا حنيفة في عدم النقض بمس الذكر ثم يصلي فهذه الصلاة لا تصح عند أبي حنيفة لأن القهقهة تنقض الوضوء عنده، كما أنها لا تصح عند مالك، ولا تصح عند الشافعي وأحمد لأن مس الذكر ينقض الوضوء عندهم."

( مقدمات، مقدمات ضرورية عن الفقه،  المطلب السادس،  الفرع الرابع، التلفيق، ج: 1، ص: 106، ط: دارالفکر دمشق)

المحیط البرہانی میں ہے:

"والعمل بالمنسوخ باطل غير جائز."

(كتاب القضاء، الفصل التاسع عشر، ج: 8، ص: 71، ط: دار الكتب العلميه بيروت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144803100557

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں