بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ربیع الاول 1448ھ 28 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

شراکت داری میں متعین نفع لینا


سوال

 ایک شخص دکان چلا رہا تھا، اس کی دکان میں کل مال چھ لاکھ روپے کی مالیت کا تھا اس میں تین لاکھ روپے اس پر ادھارتھے یعنی تین لاکھ روپے کا مال وہ ادھار کا تھا تو اس کے ساتھ دوسرا شخص وہ شریک ہوا اور تین لاکھ روپے وہ اس نے نقد اس کو ادا کیے اور تین لاکھ روپے جو ادھار تھا وہ دونوں نے آپس میں ایک دوسرے پر تقسیم کر لیا یعنی ڈیڑھ لاکھ ایک پر اور ڈیڑھ لاکھ دوسرے شخص پر اور ان دونوں کے درمیان یہ معاہدہ ہوا کہ جو نیا شریک تھا وہ چونکہ دکان میں کام نہیں کر رہا محنت نہیں کر رہا تو وہ ماہانہ 10 ہزار روپے وہ لیتا تھا اور جو شخص دکان میں محنت کر رہا تھا شریک بھی تھا وہ ماہانہ 15 ہزار روپے وہ نکالتا تھا یعنی اپنے منافع میں سے ماہانہ ایک 15 ہزار روپے نکالتا تھا اور دوسرا 10 ہزار روپے نکالے تو کیا اس طرح کرنا شرعا جائز ہے؟

جواب

اس صورت میں اگر دونوں کے درمیان شرعی شرکت قائم ہوئی ہے تو منافع کی تقسیم فیصد کے اعتبار سے طے کرنا ضروری ہے، مثلاً ایک شریک کا 60 فیصد اور دوسرے کا 40 فیصد۔ صرف اس بنیاد پر کہ ایک شریک دکان میں کام کرتا ہے اور دوسرا کام نہیں کرتا، پہلے کے لیے ماہانہ 15 ہزار اور دوسرے کے لیے 10 ہزار روپے بطور مقررہ منافع طے کرنا درست نہیں؛ کیونکہ شرکت میں کسی شریک کے لیے متعین رقم مقرر کرنا جائز نہیں، بلکہ منافع حقیقی آمدنی کے تناسب سے تقسیم ہونا چاہیے۔ البتہ اگر 15 ہزار اور 10 ہزار روپے مستقل اور مقررہ منافع نہ ہوں بلکہ ہر ماہ منافع سے بطورِ پیشگی رقم نکالے جائیں، اور آخر میں مکمل حساب کرکے ہر شریک کے مقررہ تناسب کے مطابق ایڈجسٹمنٹ کر دی جائے، تو اس کی گنجائش ہے۔ نیز کام کرنے والے شریک کو اس کی محنت کی وجہ سے دوسرے شریک کی نسبت منافع کا زیادہ فیصد مقرر کیا جاسکتا ہے۔ لہٰذا مناسب طریقہ یہ ہے کہ دونوں شریکوں کا سرمایہ، ذمہ داری اور منافع کا فیصد واضح طور پر طے کرکے شرکت کا معاملہ کیا جائے۔

البحرالرائق میں ہے:

(قوله: وتصح مع التساوي في المال دون الربح وعكسه ) وهو التفاضل في المال والتساوي في الربح  وقال زفر والشافعي: لايجوز؛ لأن التفاضل فيه يؤدي إلى ربح ما لم يضمن فإن المال إذا كان نصفين والربح أثلاثاً فصاحب الزيادة يستحقها بلا ضمان؛ إذ الضمان بقدر رأس المال؛ لأن الشركة عندهما في الربح كالشركة في الأصل، ولهذا يشترطان الخلط فصار ربح المال بمنزلة نماء الأعيان؛ فيستحق بقدر الملك في الأصل.

ولنا قوله عليه السلام: الربح على ما شرطا، والوضيعة على قدر المالين. ولم يفصل؛ ولأن الربح كما يستحق بالمال يستحق بالعمل كما في المضاربة، وقد يكون أحدهما أحذق وأهدى أو أكثر عملاً فلايرضى بالمساواة؛ فمست الحاجة إلى التفاضل. قيد بالشركة في الربح؛ لأن اشتراط الربح كله لأحدهما غير صحيح؛ لأنه يخرج العقد به من الشركة، ومن المضاربة أيضاً إلى قرض باشتراطه للعامل، أو إلى بضاعة باشتراطه لرب المال، وهذا العقد يشبه المضاربة من حيث أنه يعمل في مال الشريك ويشبه الشركة اسماً وعملاً فإنهما يعملان معاً، فعملنا بشبه المضاربة وقلنا: يصح اشتراط الربح من غير ضمان وبشبه الشركة حتى لاتبطل باشتراط العمل عليهما. وقد أطلق المصنف تبعاً للهداية جواز التفاضل في الربح مع التساوي في المال، وقيده في التبيين وفتح القدير بأن يشترطا الأكثر للعامل منهما أو لأكثرهما عملاً.

 (  کتاب الشرکۃ -5/ 188۔بیروت )

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144803100552

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں