بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 ربیع الاول 1448ھ 06 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گھر اور زمین پر ناجائز قبضہ کا حکم


سوال

مجھے اور میرے بھائی کو ایک زمین آبائی طور پر میراث میں ملی تھی، ہم دونوں کا اس میں آدھا آدھا حصہ تھا، پھر ہم دونوں نے فیصلہ کیا کہ مذکورہ زمین کو بیچ کر    گھر کے قریب ایک زمین خرید لیتے ہیں، جو کہ ہمارے درمیان آدھی  آدھی ہوگی، چنانچہ وہ زمین ہم نے خرید لی۔

اب تقریباً دو دہائیاں گزرنے کے بعد میرا بھائی کہتا ہےکہ خریدی ہوئی زمین میں تمہارا کوئی حصہ نہیں ہے(حالانکہ زمین خریدتے وقت ہمارے درمیان جو بات طے ہوئی تھی، اس پر شرعی گواہ اب بھی موجود ہیں)، نیز ہمارا جو آبائی گھر تھا، اس پر بھی میرا بھائی قابض ہوگیا ہے اور اس میں بھی میرے حصہ سے انکاری ہے، درج کردہ صورتِ حال میں میرے بھائی کی شرعی حیثیت واضح کریں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کا بیان واقعی درست ہے کہ میراث میں ملنی والی زمین اور گھر  میں  دونوں بھائی برابر کے شریک تھے، نیز  اس زمین کو بیچ کر جو زمین خریدی گئی ، اس میں بھی یہ طے ہوا تھا کہ اس میں دونوں کی ملکیت برابر برابر ہے، تو اس صورت میں سائل کے بھائی کا زمین اور گھر میں بھائی کے حصے کا انکار کرکے مذکورہ جائیداد پر قابض ہونا شرعاً غصب کے زمرے میں آتا ہے، جو کہ شرعاً حرام اور گناہ ہے، لہذا سائل کے بھائی پر لازم ہے کہ اپنے اس فعل پر توبہ و استغفار کرے اور اپنے غاصبانہ قبضہ ختم کرتے ہوئے سائل کو ان کا پورا پورا حصہ ادا کرے۔

 مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"عن سعيد بن زيد رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين»."

ترجمہ:”حضرت سعید  بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ  : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص( کسی کی ) بالشت بھر زمین  بھی  از راہِ ظلم لے گا،قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی  زمین اس کے گلے میں   طوق  کے طور پرڈالی  جائے گی۔“

(باب الغصب والعاریة، ‌‌الفصل الأول، ج:1، ص:254، ط: قدیمي كتب خانه)

الجوہرۃ النیرۃ میں ہے :

"والغصب محرم لقوله تعالى ﴿ولا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل﴾ [البقرة: ١٨٨] الآية، وقال تعالى ﴿إن الذين يأكلون أموال اليتامى ظلما﴾ [النساء: ١٠] الآية، وقال - عليه الصلاة والسلام - «حرمة مال المسلم كحرمة دمه ومن غصب شبرا من أرض طوقه الله به من سبع أرضين»"

(کتاب الغصب، ج :1، ص :339، ط :المطبعة الخيرية)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144803100542

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں