بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الثانی 1448ھ 16 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مشترکہ خاندانی کاروبار سے خریدے گئے مکان کی فروخت اور سرمایہ کاری کے تناسب سے رقم کی تقسیم کا شرعی حکم


سوال

ہمارے والد صاحب کا انتقال ہوچکا ہے اور ورثاء میں والدہ کے علاوہ ہم چار بھائی ہیں، ہماری کوئی بہن نہیں ہے۔ ہم چاروں بھائی اپنی والدہ کے ساتھ مشترکہ خاندانی نظام میں رہتے تھے اور ہمارا کھانا پینا اکٹھا تھا۔ ہم میں سے تین بھائی اپنی کمائی والدہ کو دیتے تھے جس سے وہ گھر کا خرچ چلاتی تھیں، جبکہ ایک بھائی چھوٹا تھا اس لیے ہم نے اس سے کوئی رقم نہیں لی اور نہ ہی کبھی مطالبہ کیا۔
کچھ عرصہ قبل ہم نے اپنا ایک پرانا مکان فروخت کیا، جس سے 11,60,451 روپے حاصل ہوئے۔ اس رقم میں ہم تین بھائیوں نے مزید اپنی ذاتی رقم شامل کی اور ایک نیا مکان کل 18,50,261 روپے میں خریدا۔ چھوٹے بھائی کی اس میں کوئی رقم شامل نہیں تھی۔ مکان خریدتے وقت والدہ نے یہ شرط طے کی تھی کہ جو کوئی اس مکان میں جتنی رقم لگائے گا، مکان فروخت ہونے پر جو بھی موجودہ قیمت ملے گی، وہ اسی حساب سے اپنا حصہ نکال لے گا۔ جب یہ گھر خریدا جا رہا تھا تو والدہ کے نام پر استخارہ صحیح نہیں آیا۔ اس پر والدہ نے مجھ سے (یعنی رشید سے) کہا کہ تم اسے اپنے نام پر کرالو کیونکہ تمہارے نام پر استخارہ ٹھیک آیا تھا۔ لہٰذا یہ مکان کاغذات میں میرے (رشید غلام نبی کے) نام پر ہے۔ خریداری کے وقت میں نے اور والدہ نے رقم ملائی تھی، بعد میں دیگر دو بھائیوں نے بھی اپنا اپنا حصہ دے دیا۔
رقم کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ پرانے مکان کی فروخت سے حاصل شدہ 11,60,451 روپے کے علاوہ رشید نے 321,784 روپے، رفیق نے 184,013 روپے اور شاہد نے 184,013 روپے ملا کر دیے، اس طرح مکان کی کل مالیتِ خریداری 18,50,261 روپے بنی۔
ابھی کچھ عرصے سے ہمارا کھانا پینا الگ ہو چکا ہے اور اب ہم اس موجودہ مکان کو فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ براہِ کرم شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ مکان فروخت کرنے کے بعد حاصل ہونے والی کل رقم کی تقسیم ہم والدہ اور بھائیوں کے درمیان کس طرح ہوگی؟

وضاحت: پہلے (پرانے) مکان کے حوالے سے یہ بات واضح رہے کہ ہمارا نمک کا ایک کاروبار تھا جس میں ہم  شریک تھے، اور اسی کاروبار کی رقم سے وہ پہلا مکان خریدا گیا تھا، لہٰذا اس پرانے مکان میں والدہ اور ہم چاروں بھائی خود کو برابر کا شریک اور حصہ دار مانتے ہیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں چونکہ سائل نے یہ صراحت کر دی ہے کہ پرانے مکان  میں والدہ سمیت چاروں بھائی برابر کے شریک مانے گئے تھے، اس لیے اس پرانے مکان کی فروخت سے حاصل ہونے والی کل رقم (11,60,451 روپے) کے یہ پانچوں افراد برابر (یعنی 20, 20 فیصد) کے حق دار تھے۔ اس حساب سے پرانے مکان کی رقم میں سے ہر ایک شریک (والدہ اور چاروں بھائیوں) کے حصے میں 232,090.2 روپے (دو لاکھ بتیس ہزار نوے روپے بیس پیسے) آئے۔

نئے مکان کی خریداری کے وقت محض استخارے کی وجہ سے مکان کو کاغذات میں صرف ایک بھائی (رشید) کے نام پر رجسٹرڈ کروانے سے رشید شرعاً اس پورے مکان کا تنہا مالک نہیں بن گیا، بلکہ یہ نیا مکان تمام ورثاء کے درمیان ”شرکتِ ملک“ (مشترکہ ملکیت) کے اصول پر مشترک ہے۔ والدہ کا یہ فرمانا کہ ”جو اس مکان میں جتنی رقم لگائے گا، وہ فروخت ہونے پر اسی حساب سے اپنا حصہ نکال لے گا“، شرعاً بالکل درست ہے اور مشترکہ جائیداد کا شرعی تقاضا بھی یہی ہے کہ ہر شریک اپنی سرمایہ کاری کے تناسب (Percentage) سے موجودہ مالیت کا حق دار ہوتا ہے۔

لہٰذا، نئے مکان (جس کی کل قیمتِ خرید 18,50,261 روپے ہے) میں تمام شرکاء کی کُل ذاتی سرمایہ کاری اور ان کے فیصد (Percentage) حصوں کی تفصیل درج ذیل ہے:

والدہ کی کل سرمایہ کاری: 232,090.2 روپے (صرف پرانے مکان کا حصہ) مکان میں حصہ (فیصد): 12.54%

رشید کی کل سرمایہ کاری: 553,874.2 روپے (232,090.2 پرانے مکان کا حصہ + 321,784 ذاتی رقم)؛ مکان میں حصہ (فیصد): 29.94%

رفیق کی کل سرمایہ کاری: 416,103.2 روپے (232,090.2 پرانے مکان کا حصہ + 184,013 ذاتی رقم)؛ مکان میں حصہ (فیصد): 22.49%

شاہد کی کل سرمایہ کاری: 416,103.2 روپے (232,090.2 پرانے مکان کا حصہ + 184,013 ذاتی رقم)؛ مکان میں حصہ (فیصد): 22.49%

چھوٹے بھائی کی کل سرمایہ کاری: 232,090.2 روپے (صرف پرانے مکان کا حصہ)؛ مکان میں حصہ (فیصد): 12.54%

(نوٹ: ان تمام رقوم کا مجموعہ کل 18,50,261 روپے بنتا ہے، اور فیصد کا مجموعہ 100% بنتا ہے)۔

مکان کی موجودہ فروخت پر تقسیم کا طریقہ: اب جب آپ لوگ اس موجودہ مکان کو فروخت کریں گے، تو یہ مکان موجودہ مارکیٹ میں جتنی مالیت میں بھی فروخت ہو، حاصل شدہ کل رقم کو مندرجہ بالا فیصد  کے حساب سے تقسیم کیا جائے گا۔ مثال کے طور پر، مکان کی جو بھی کل قیمتِ فروخت طے ہو، اس کا 12.54 فیصد والدہ کو، 29.94 فیصد رشید کو، 22.49 فیصد رفیق کو، 22.49 فیصد شاہد کو اور 12.54 فیصد چھوٹے بھائی کو دیا جائے گا۔ اس طرح ہر ایک کو اپنی سرمایہ کاری کے تناسب سے موجودہ مالیت میں سے بالکل صحیح حصہ مل جائے گا۔

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام میں ہے:

 "(المادة 1073) - (تقسيم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابهم بنسبة حصصهم. فلذلك إذا شرط لأحد الشركاء حصة أكثر من حصته من لبن الحيوان المشترك أو نتاجه لا يصح) تقسم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابها بنسبة حصصهم، يعني إذا كانت حصص الشريكين متساوية أي مشتركة مناصفة فتقسم بالتساوي وإذا لم تكن متساوية بأن يكون لأحدهما الثلث وللآخر الثلثان فتقسم الحاصلات على هذه النسبة؛ لأن نفقات هذه الأموال هي بنسبة حصصهما، انظر المادة (1308) وحاصلاتها أيضا يجب أن تكون على هذه النسبة؛ لأن الغنم بالغرم بموجب المادة (88). الحاصلات: هي اللبن والنتاج والصوف وأثمار الكروم والجنائن وثمن المبيع وبدل الإيجار والربح وما أشبه ذلك."

(الكتاب العاشر: الشركات، الباب الأول في بيان شركة الملك، الفصل الثاني في بيان كيفية التصرف في الأعيان المشتركة، ج: 3، ص: 26، ط: دار الجيل)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144803100524

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں