بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نمازِ سفر کی شروعات اور اختتام

سوال

نمازِ سفر کی شروعات اور اختتام کہا ں تک ہے؟

جواب

واضح رہے کہ جوشخص مسافتِ سفریعنی  اڑتالیس میل (77.24 کلو میٹر) کی مسافت تک سفرکے ارادےسے نکلے تو ایساشخص اپنی بستی یا اپنےشہرکی  حدود سے نکلتے ہی قصرنمازاداکرے گا،اورجب سفرسے واپسی پراپنی بستی یا شہرکی حدودمیں داخل ہوگاتو پھر مکمل نمازاداکرےگا۔چاہے اپنےگھر نہ پہنچا ہو۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"ولا بد للمسافر من قصد ‌مسافة ‌مقدرة بثلاثة أيام حتى يترخص برخصة المسافرين وإلا لا يترخص أبدا."

(كتاب الصلاة، الباب الخامس عشر في صلاة المسافر، ج:1، ص:؛139، ط:رشيدية)

فتاوی شامی  میں ہے:

"(من ‌خرج ‌من ‌عمارة موضع إقامته) من جانب خروجه... (قاصدا) ... (مسيرة ثلاثة أيام ولياليها)... (صلى الفرض الرباعي ركعتين)... حتى يدخل موضع مقامه) إن سار مدة السفر."

(كتاب الصلاة، باب صلاة المسافر، ج:2، ص:124-121، ط:سعيد)

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144803100495
تاریخ27-08-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں