بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ربیع الاول 1448ھ 27 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

نمازِ سفر کی شروعات اور اختتام


سوال

نمازِ سفر کی شروعات اور اختتام کہا ں تک ہے؟

جواب

واضح رہے کہ جوشخص مسافتِ سفریعنی  اڑتالیس میل (77.24 کلو میٹر) کی مسافت تک سفرکے ارادےسے نکلے تو ایساشخص اپنی بستی یا اپنےشہرکی  حدود سے نکلتے ہی قصرنمازاداکرے گا،اورجب سفرسے واپسی پراپنی بستی یا شہرکی حدودمیں داخل ہوگاتو پھر مکمل نمازاداکرےگا۔چاہے اپنےگھر نہ پہنچا ہو۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"ولا بد للمسافر من قصد ‌مسافة ‌مقدرة بثلاثة أيام حتى يترخص برخصة المسافرين وإلا لا يترخص أبدا."

(كتاب الصلاة، الباب الخامس عشر في صلاة المسافر، ج:1، ص:؛139، ط:رشيدية)

فتاوی شامی  میں ہے:

"(من ‌خرج ‌من ‌عمارة موضع إقامته) من جانب خروجه... (قاصدا) ... (مسيرة ثلاثة أيام ولياليها)... (صلى الفرض الرباعي ركعتين)... حتى يدخل موضع مقامه) إن سار مدة السفر."

(كتاب الصلاة، باب صلاة المسافر، ج:2، ص:124-121، ط:سعيد)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144803100495

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں