بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 جُمادى الأولى 1448ھ 16 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ڈیجیٹل اشیاء کو فروخت کرنے کا حکم

سوال

میں Etsy پر ڈیجیٹل پروڈکٹس، مثلاً کینوا سے بنائے گئے پلینرز، انویٹیشنز، ٹیمپلیٹس وغیرہ اپنی محنت سے بنا کر فروخت کرنا چاہتا ہوں ، جن کا کوئی فزیکل وجود نہیں ہوتا، خریدار پیمنٹ کے بعد فائل پی ڈی ایف/پی این جی کی صورت میں ڈوانلوڈ کرلیتا ہے اور کوئی فزیکل چیز نہیں بھیجی جاتی، براہِ کرم رہنمائی فرمائیں:

  1. کیا اس طرح ڈیجیٹل پروڈکٹس بنانا اور فروخت کرنا شرعاً جائز ہے؟
  2. چونکہ خریدار کو فزیکل چیز نہیں ملتی بلکہ فائل یا اس کے استعمال کا حق ملتا ہے، کیا اس کی قیمت لینا جائز ہے؟ اور ایٹسی کی فیس/کمیشن اور پیمنٹ سسٹم کے ذریعے کاروبار کرنا کیسا ہے ؟
  3.  میں کسی پروڈکٹ کی ایک ہی ڈیجیٹل فائل بار بار مختلف خریداروں کو فروخت کروں تو کیا یہ شرعاً جائز ہے؟
  4.  اس کاروبار کو حلال رکھنے کے لیے کن شرائط اور احتیاطوں کا خیال رکھنا ضروری ہے؟ براہِ کرم اس مسئلے میں واضح رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کا ڈیجیٹل پروڈکس بنا کر لوگوں کو اس کے استعمال کی اجازت دینا اور اس پر پیسے لینا  درحقیقت اپنی خدمات کا عوض ہے ،اور یہ جائز ہے بشرط یہ کہ ڈیجیٹل پروڈکس خود ناجائز امور مثلاً تصاویر  ،فحش مواد وغیرہ امور پر مشتمل نہ ہوں ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

" فهي عقد على المنافع بعوض، كذا في الهداية."

(کتاب الاجارۃ، ج:4، ص:409،رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144803100479
تاریخ20-09-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں