
میرے بیٹے کا کچھ مہینے پہلے دونوں خاندانوں کی باہمی رضامندی سے باقاعدہ شرعی نکاح ہوا،بعدازاں رخصتی سے پہلے لڑکا اورلڑکی آپس میں رابطہ کرنے لگے،ایک مرتبہ دونوں کے مابین تلخ کلامی بھی ہوئی،لیکن دونوں نے معاملہ سلجھاکر صلح کرلی۔جب ان باتوں کا لڑکی کے والد کومعلوم ہواتوانہوں نےمجھ سے کال پرگالم گلوچ کی ،اورکہا کہ آپ کا بیٹامیری بیٹی سے رابطہ کرتاہے،حالاں کہ جب تک رخصتی نہ ہوجائےوہ اس کی بیوی نہیں کہلائےگی۔
دریافت یہ کرنا ہے کہ کیا باقاعدہ شرعی نکاح کے بعد لڑکا لڑکی آپس میں میاں بیوی کہلاتے ہیں یانہیں،یا رخصتی کے بعد زوجین کہلائیں گے؟کیا ان کا آپس میں رابطہ درست ہے ؟بینواتوجروا
صورت مسئولہ میں باقاعدہ شرعی نکاح ہوجانے بعد لڑکااور لڑکی دونوں میاں بیوی بن چکے ہیں،رخصتی سے قبل دونوں کا باہم ملنا جلنا اوررابطے میں رہنا شرعاََجائز ہے،تاہم چوں کہ رخصتی سے قبل میاں بیو ی دونوں کا باہم ملنا جلنا اوربات چیت کرنا اخلاقی اور عرفی لحاظ سےپسندیدہ طرزعمل نہیں ہے،عموماََاس سےدونوں خاندانوں کے مابین فساد جنم لیتاہے، اس لیےبہتر یہی ہے کہ دونوں میاں بیوی رخصتی سے قبل رابطہ رکھنے سے گریز کریں۔اور دونوں خاندانوں کو چاہیے کہ جلد رخصتی کاانتطام کریں۔
گالم گلوچ کرنا شرعاً ناجائز ہے ۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(هو) عند الفقهاء (عقد يفيد ملك المتعة) أي حل استمتاع الرجل من امرأة لم يمنع من نكاحها مانع شرعي."
(كتاب النكاح، ج:3،ص:3، ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144803100463
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن